خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 383
خطبات طاہر جلد دوم 383 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۹۵ء۔ہے اور از سر نو پیدا ہوتا ہے۔جیسے ماں کے پیٹ سے اکیلا آتا ہے وہ بھری دنیا میں پھرا کیلا ہو جاتا ہے مگر خدا پھر اس کو اکیلا نہیں رہنے دیتا۔وہ ضرور بڑھتا ہے، وہ ضرور پھیلتا ہے، وہ ضرور شناخت کیا جاتا ہے۔کثرت کے ساتھ لوگ اس سے تعلق جوڑنے کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں یہاں تک کہ اس سے تعلق جوڑنے والے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور دوسرے گھٹتے چلے جاتے ہیں۔یہی وہ روحانی انقلاب ہے جو دنیا میں ہر نبی بر پا کرتارہا اور یہی وہ روحانی انقلاب ہے جو سب سے بڑھ کر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے برپا فرمایا اور یہی وہ روحانی انقلاب ہے جس کا آخری دور آج ہے، جس دور سے ہم گزر رہے ہیں یہی وہ زمانہ ہے جس میں آنحضرت ﷺ کے تمام دنیا پر غالب آنے کی پیشگوئیاں کی گئی ہیں۔پس حقیقت میں آنحضرت ﷺ ہی کے دل کی توحید ہے جو دنیا پر غالب آئے گی مگر ان دلوں کے ذریعے جو محمد رسول اللہ اللہ کے مشابہ موحد دل اپنے سینوں میں پیدا کریں گے۔جب وہ توحید کے دل دھڑ کیں گے تو پھر وہ اکیلے نہیں دھڑ کیں گے اور دلوں کی دھڑکنیں ان کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں گی ، اور دل ہیں جو ان کی ضربات پر زیر و بم دکھائیں گے، اونچے ہوں گے اور نیچے ہوں گے۔ان میں ولولے پیدا ہوں گے، ان کی ہر حرکت اور سکون ان دلوں کے تابع ہو جائے گی۔یہ وہ روحانی انقلاب ہے جس کو پیدا کرنے کے لئے آج اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پیدا کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے ہم خدام کو ہم ادنی چاکروں کو اس زمانے کا امام بنایا گیا ہے۔پس آپ اس زمانے کے امام ہیں، آپ اس زمانے کے خلیفہ ہیں کیونکہ وقت کے امام کے چا کر اور وقت کے امام کے کامل تابع اور فرمانبردار ہیں۔اس امام کے کامل تابع اور فرمانبردار ہیں جس کا سب کچھ مھم مصطفی کا ہو چکا تھا، جس کا اپنا کچھ بھی باقی نہیں رہا تھا۔پس یہ سلسلہ بہ سلسلہ روحانی تعلق ہے جو اوپر تک چڑھتا ہے اور جب محمد رسول اللہ کے دل پر بات چلی جاتی ہے تو پھر اللہ اور اس دل میں کوئی فرق باقی دکھائی نہیں دیتا۔ہاں ! خالق اور مخلوق کا فرق تو ہے جو اس دل اور خدا کے درمیان ہے مگر خالق اس دل پر ایسا جلوہ گر ہوتا ہے کہ وہ دل اس کا عرش بن جاتا ہے۔اس کی تمام تر صفات اس دل میں جلوہ گر ہونے لگتی ہیں۔ان معنوں میں ایک نئی تو حید جنم لیتی ہے کہ ہر وہ بندہ جو خدا کی خاطر اپنا سب کچھ فنا کر کے اسی میں ہو جاتا ہے خدا کی توحید اس میں جلوہ گر ہوتی ہے۔وہ بڑھتا ہے تو توحید