خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 362 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 362

خطابات طاہر جلد دوم 362 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء ۲۹ پرمحمد صادق صاحب خطیب لکھتے ہیں کہ اسلام اور گاندھی کا امام مہدی بالقوی یہ احراری اس زمانے میں تعریفوں کے پل باندھ دیا کرتے تھے۔یہ الزام نہیں ہے واقعی کہا کرتے تھے کہ نبی الکلام ہے اور گاندھی امام ہے، ہدایت دینے والا ، ہدایت پر جاری ہوئی کس امام نے وہ ان کے خلافت کے جلسوں میں آکر تقریر کیا کرتے تھے اور یہ احراری لوگ ختم نبوت کے So Called محافظ ایک دوسرے پر ٹوٹے پڑتے تھے گاندھی جی کا دیدار کر لیں۔جہاں تک شیعہ مذہب کا تعلق ہے تذکرۃ الائمہ میں لکھا ہوا ہے صفحہ 91 پر : ”حضرت علی “خدا ہیں۔“ مناقب مرتضوی حیات القلوب‘ جلد ۲ باب ۴۹ پر لکھا ہے: 66 حضرت علی خدا ہیں اور محمد اُس کے بندے ہیں۔“ تک رسول مل نہیں ہے یہ؟، اس لئے کہ شیعوں کے پاس طاقت ہے۔طاقتور کو تو اجازت ہے جس کی چاہے گستاخی کرے، شرک کرے، گستاخی رسول کرے سب تسلیم ہے۔لیکن کمز ور قابو آئے تو وہ حمد بھی کرے تو اس کو قابل گردن زدنی قرار دے دو، یہ ان کا مذہب یہ ان کا دین ہے، اس کو اسلام کہہ رہے ہیں۔جو مرضی نام رکھ لیں اسلام تو نہ کہیں، یہ ظلم ہے جس کی خدا ان کو اجازت نہیں دے گا اور ضرور ان کو ذلیل ورسوا کرے گا۔رسالہ نورتن صفحہ ۲۶ میں لکھا ہے: 66 حضرت علی فرزند خدا ہیں۔“ رسالہ نورتن صفحہ ۳۵ پر لکھا ہے: قرآن در اصل حضرت علی کی طرف نازل ہوا تھا۔“ اور ایک دوسری روایت شیعہ مصنف لکھتے ہیں کہ: صلى الله نحضرت ﷺ کی شکل چونکہ حضرت علی سے ملتی تھی اس لئے جبرائیل علیہ السلام کو دھوکہ لگ گیا، وہ قرآن لے کر آئے تھے حضرت علیؓ کی صلى الله طرف آگے رسول اللہ ہی بیٹھے ہوئے تھے ، ان کو قرآن پکڑا دیا۔“ اس گستاخی پر آدمی روئے یا حماقت پر ہنسے کہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ کیا لوگ ہیں اور یہ اعلان