خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 355
خطابات طاہر جلد دوم 355 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء وہی راہ اختیار کرتا ہوں جو انسان کو اپنی لاعلمی میں عاجزی کی راہ اختیار کرنی چاہئے۔تم میں سے ان لوگوں کے حق میں ضرور یہ فتویٰ جاری ہو چکا جن کے متعلق خدا جانتا ہے کہ ان کے دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں۔مگر میں خدا سے توقع رکھتا ہوں ، اس کی رحمت سے امید رکھتا ہوں ، محمد رسول اللہ اللہ کی امت کے متعلق میرا دل یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ نعوذ باللہ من ذالک اس امت کی طرف منسوب ہونے والے اکثر لوگوں کے دل پر مہر لگائی جاچکی ہے۔چند بد بخت لوگ ہیں، وہ گدھے ہیں جنہوں نے یہ فیصلے دے کر اس امت کا ناک کٹا دیا ہے اور عوام الناس کے مذہب اور مزاج کو بگاڑ رکھا ہے۔پس ان کے لئے ہم ضرور دعا کریں گے اور دعا کرتے چلے جائیں گے۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر ہم حضرت محمد رسول اللہ کے اُسوہ کے تابع سچے دل سے ان لوگوں کے لئے استغفار کریں جن لوگوں کے متعلق خدا کے نزدیک مہروں کا فتویٰ ابھی صادر نہیں ہوا، ابھی یہ موت کے کنارے تک پہنچے ہیں، قبروں میں گاڑے نہیں گئے۔تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ کے فضل سے اس قوم میں عظیم انقلاب پیدا ہو گا اور یہ لوگ جن کے دین پر خودان کے دینی رہنما حملہ کر رہے ہیں اور ان کو زندہ درگور کر رہے ہیں، ایک وقت ہے اور ایسا وقت آئے گا کہ یہ مردے اٹھ کھڑے ہوں گے یا نیم مردے اٹھ کھڑے ہوں گے اور اپنے ان ظالم رہنماؤں کو دفن کر دیں گے اور ہمیشہ کے لئے دفن کر دیں گے، تاریخ کی اس مٹی تلے یہ دب جائیں گے جس مٹی کے نیچے فاسقوں کا دبنا مقدر ہو چکا ہے۔اور تم دیکھو گے کہ اسلام کی وہ تاریخ جو احمدیت کے ذریعے دن بدن روشن سے روشن تر ہوتی چلی جائے گی۔یہ تاریخ ان شہداء کو زندہ کرے گی جو ان ظالموں کے ہاتھوں مارے گئے اور ان ظالموں کو ہمیشہ کے لئے موت کے گھاٹ اتار دے گی۔میں نے جہاں تک غور کیا ہے ان علماء کا جو بہتر فرقوں کی تھیلی میں ہیں۔ان کا آپس کا ایک غیر تحریری معاہدہ سا ہو چکا ہے اور اس معاہدے کی روح یہ ہے کہ ہم آپس میں جتنی مرضی تذلیل کریں، جتنی مرضی گستاخیاں کریں رسول کی ، قرآن کی ہمیں کھلی چھٹی ہے۔ہم ایک دوسرے کے خلاف نہ بات کریں کیونکہ ہم ایک ہی تھیلی میں آچکے ہیں۔ہاں تھیلی سے باہر اجازت نہ دو اور اسلام کے دشمنوں کو تو اجازت دو مگر وہ ایک فرقہ جس کے متعلق رسول اللہ کا فتویٰ یہ ہے کہ وہ بہشتی اور جنتی ہے، اس کو اجازت نہ دو کہ وہ رسول اللہ اللہ کی حمد اور مدح کے گیت ہی گائیں اگر وہ گائیں تو ان کو کہو