خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 348
خطابات طاہر جلد دوم 348 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء صلى الله الله ربع بن قیظی کی زمین تھی جو ایک منافق انسان اور نابینا بھی تھا۔ظاہر وباطن کا اندھا اور رسول اکرم علی کا اتنا دشمن تھا کہ اس نے جب آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کی آوازیں سنیں تو سامنے کھڑے ہو کر ان پر مٹی پھینکنے لگا اور کہنے لگا! کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو میں آپ کو ہر گز اجازت نہیں دیتا کہ میرے احاطہ زمین میں داخل ہوں۔اور روایت ہے کہ اس نے مٹھی بھر کر یہ کہا کہ خدا کی قسم اے محمد ! اگر مجھے پتا چل جائے تو یہ مٹی آپ کے سوا کسی اور کے چہرے پر نہیں پڑے گی اور خدا کی قسم میں آپ کے منہ پر یہ مٹی دے مارتا۔صحابہ تیزی سے جوش سے آگے بڑھے کیونکہ جنگ کا وقت تھا اور ایسے موقع پر بے اختیاری میں تلواروں کا چل جانا کوئی بعید نہیں تھا مگر آنحضرت ﷺ نے ان کو روک دیا اور فرمایا! ہرگز نہیں، اس کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔(سیرۃ ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۶۵) یہ ہے ہتک رسول اور گستاخی رسول کی وہ سزا اور جزا جومحمد رسول اللہ ﷺ نے خدا سے سیکھی ، کلام الہی سے سمجھی اور خود اس کو اپنے کردار میں جاری فرمایا اور اس کی صحابہ کو تلقین فرمائی۔یہ روایت کس کتاب میں ہے؟ سیرت ابن ہشام میں یہ روایت درج ہے باب غزوہ اُحد کے تابع۔دوسری روایت ہے مسند امام احمد بن حنبل کی دار الفکر العربی مصر کی طبع شدہ ہے۔جلد ثانی صفحہ 219 عبد اللہ بن حارث بن نوفل کے آزاد کردہ غلام مقسم ابی القاسم سے روایت ہے کہ میں اور کلیب بن کلاب عبد اللہ بن عمرو بن العاص کے پاس آئے اور وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور ان کے جوتے ان کے ہاتھ میں تھے۔ہم نے ان سے کہا کہ آپ اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھے جب غزوہ حنین کے روز بن تمیم کے ایک شخص نے حضور سے سخت کلامی کی تھی ؟ آپ نے کہا! ہاں، بنوتمیم کا ایک شخص آیا اس کا نام ذوالخویصرہ تھا وہ آنحضرت ﷺ کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اور حضور لوگوں کو عطا فرما رہے تھے۔اس نے کہا اے محمد ! آج جو کچھ آپ نے کیا ہے میں نے دیکھا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں تو پھر تو نے کیسا پایا۔اس نے کہا میرے خیال میں آپ نے عدل و انصاف سے کام نہیں لیا۔آپ اموال میں بد دیانتی اور خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں۔آنحضرت ﷺ کے او پر اس بھیا نک الزام کو سنتے ہی جیسا کہ عموماً روایتوں میں درج ہے حضرت عمر بن الخطاب اس موقع پر بھی کھڑے ہوئے اور رسول اکرم ﷺ سے پوچھا کہ کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں؟ آپ نے فرمایا نہیں اسے چھوڑ دو۔یقیناً ان لوگوں سے ایک گروہ پیدا ہونے والا ہے جو دین میں شدت اور سختی اختیار کریں