خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 315
خطابات طاہر جلد دوم 315 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۳ء کچھ بھی باقی نہیں رہے گا لیکن خدا ہماری حفاظت فرما رہا ہے۔خدا کی رحمت اورستاری کا پردہ ہے جو ہمارے عیوب کو ڈھانپے ہوئے ہے، اس پر دے کی حفاظت کے لئے استغفارضروری ہے۔پس استغفار کا مضمون اس لئے بھی ہے کہ قو میں آئیں گی اور تمہیں دیکھیں گی۔اگر انہوں نے تمہارا اندرونہ دیکھ لیا، اگر تمہاری کمزوریوں سے آگاہ ہوگئیں تو اسلام سے متنفر ہونے لگیں گی۔پس خدا سے بخشش مانگتے ہوئے جس طرح کیٹر امٹی میں چھپتا ہے اس طرح خدا کے فضلوں اور رحمتوں اور ستاری کے پردے میں چھپ جاؤ تا کہ تمہارا صرف حسین چہرہ دکھائی دے۔دکھاوے کی خاطر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کی حفاظت کے لئے اور خدا کے دین میں داخل ہونے والوں کی اخلاقی قدروں کی حفاظت کے لئے تمہیں لازماً اچھا بنا ہوگا اور وہ اچھا بنا استغفار کے ذریعے ہوسکتا ہے۔پر دے دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک پردہ وہ ہے جو بیماریوں کو اس طرح ڈھانپتا ہے کہ بیماریاں اندر اسی طرح پلیتی رہتی ہیں اور صرف پردہ ہی رہتا ہے۔مگر خدا جس پر دے کی طرف آپ کو بلا رہا ہے یعنی ستاری کا پردہ اس کے متعلق جب سے دنیا بنی ہے تمام عارف باللہ گواہ ہیں اور واقعاتی طور پر اپنے تجارب سے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ خدا کی ستاری کے پردے میں انسان کی کمزوریاں دور ہونے لگتی ہیں ، وہ ویسا نہیں رہتا جیسے پہلے تھا۔پس وہ پردہ جس کے ہٹانے سے برائیاں نہ صرف اسی طرح دکھائی دیں بلکہ پہلے سے بڑھ کر دکھائی دیں وہ عیاری کا پردہ ہے ، وہ ستاری کا پردہ نہیں۔وہ دکھاوے کا پردہ ہے،وہ بخشش کا پردہ نہیں ، وہ استغفار کا پردہ نہیں۔استغفار کے پردے کی یہ قطعی علامت ہے اور جب سے دنیا بنی ہے یہی اس پردے کی خوبی اور یہی اس پردے کا خاصا ہے کہ جو اس پردے کے تلے آئے اس کے اندر اصلاح ہونی شروع ہو جاتی ہے، اس کی بیماریاں دور ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔پس پردہ وہاں وہاں سے اٹھتا ہے جہاں جہاں سے جسم اور روح اصلاح پذیر ہو چکے ہوتے ہیں، ایک نئے روپ میں انسان دنیا کے سامنے ابھرتا ہے۔پس ان آنے والوں کو یہ نظارے دکھائیں اور یہ نظارے صرف استغفار کی برکت سے حاصل ہو سکتے ہیں۔اب میں ایک دو اور باتیں آپ کے سامنے کچھ جذباتی سی بھی ہیں کچھ واقعاتی سی بھی وہ رکھتا ہوں آپ کو یاد ہو گا چند سال پہلے میں نے ایک نظم میں اپنی عاجزانہ تمناؤں کا اظہار کیا تھا۔جس کے شعر کچھ ایسے تھے کہ