خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 308 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 308

خطابات طاہر جلد دوم 308 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۳ء کہ ہفتے کے بعد آ کے لے جانا، آج لے جاؤ یہ تمہارا ہے۔میرا سر میر انہیں رہا خدا کی راہ میں قربان ہونے کے لئے تیار بیٹھا ہے، آج نہیں کل آ کے لے جانا مگر میں تو دین سے نہیں پھروں گا۔لیکن اس کے بعد خدا تعالیٰ نے ان کے دل میں ایک بات ڈالی، اس گاؤں کے جو دنیا کے لحاظ سے سب سے بااثر لیڈر تھے ان سے جا کے وہ ملے اور انہوں نے کہا کہ تم نے اگر مجھے مارنا ہی ہے تو اپنے پاک ہاتھوں سے مارو۔مولوی سے کیوں مرواتے ہو؟ میری عاقبت خراب نہ کرو تم مارو اور کوئی گاؤں کا شریف آدمی مار دے۔مولوی سے نہ مردوانا اور پھر کہا کہ اچھا مارنے سے پہلے ایک ہمارے امام کا خطبہ تو سن لو۔اس نے کہا اچھا پھر مجھے سناؤ۔چنانچہ اس کو خطبہ سنایا گیا۔کہتے ہیں سنتے سنتے اس کی حالت بدل گئی اور اس نے اعلان کیا کہ اب میں بھی احمدی ہوں، مجال ہے کسی کی اس کو ہاتھ لگا کے دیکھے۔بنگلہ دیش ہی کا ایک اور واقعہ ہے۔ایک مخالف لیڈ ر جو جماعت کے خلاف جلوس کی قیادت کرتے تھے اور پتھراؤ میں پیش پیش تھے اور مخالفت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ان کو کسی نے کہا کہ تم ایک دفعہ آکر ٹیلی ویژن پر خطبہ تو دیکھ لو سن لو، پھر جو چاہے کرنا۔چنانچہ وہ بات مان گئے۔کہتے ہیں خطبہ سنتے سنتے ان کی حالت غیر ہونی شروع ہوئی اور بلک بلک کر رونے لگے اور خطبہ ختم ہوتے ہی کہا! ابھی میری بیعت کرواؤ۔عجیب اللہ کی شان ہے، ہمارے وسائل کتنے محدود تھے اور راہ میں کتنی روکیں کھڑی کی گئیں تھیں۔ساری دنیا کی طاقتیں کہتی تھیں تم کون ہوتے ہو آگے بڑھنے والے، ہم تمہیں ایک قدم آگے بڑھنے نہیں دیں گے اور خدا کی شان کیسے عظیم انتظام کئے ہیں ،اس دنیا کی کوئی طاقت ان کو روک نہیں سکتی۔میں نے پہلے بھی کہا تھا جو فضل آسمان سے برستے ہیں کوئی چھتری ہے جو ان کو روک سکے، کوئی شامیانہ ہے جو ان کی راہ میں حائل ہو سکے۔جب آسمان سے فضل برستے ہیں تو پھر ساری دنیا میں ہر طرف پھیلتے چلے جاتے ہیں اور آج جماعت احمدیہ پر ساری دنیا میں آسمان سے فضل نازل ہورہے ہیں۔ہر جگہ خدا کی طرف سے جو فضل نازل ہورہے ہیں وہ تبشیر کی صورت میں بھی ہورہے ہیں، انذار کی صورت میں بھی ہورہے ہیں اور ایسی کمزور جماعتیں جن کو مخالفوں نے گھیر رکھا تھا، زندگی ان کی عذاب بنا رکھی تھی۔ان کے لیڈروں کو ، ان کے سربراہوں کو خدا نے کس طرح سزادی اور عبرتناک