خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 307
خطابات طاہر جلد دوم 307 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۳ء سے دیکھنے لگے، ہر کسی کی زبان پر احمد یہ مسلم کا ڈش انٹینا لفظ تھا۔اس وقت تک ہم غانا میں خدا کے فضل سے دس انٹینے مکمل طور پر فٹ کر چکے ہیں۔اب حضور کا خطبہ غانا کے آخری دُور کے علاقے میں بھی دیکھا اور سنا جا رہا ہے۔کشمیر کے ایک گاؤں میں جب ڈش انٹینا لگا تو وہاں سے جور پورٹ آئی وہ یہ ہے۔” جب انہوں نے پہلا خطبہ سنا تو ان کی عجیب حالت تھی، یہ گاؤں پہاڑوں کے درمیان گھرا ہوا ہے۔(یعنی سڑک سے بہت ہٹ کر ہے ) پیدل جانا پڑتا ہے، جذبات سے ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور زبانیں خدا کی حمد سے تر تھیں کہ کہاں ان پہاڑوں کے بیچ میں بیٹھے آج ہم اپنے آقا کی زیارت کر رہے ہیں۔“ بنگلہ دیش سے مربی صالح احمد صاحب جو یہاں جلسے میں شمولیت کے لئے تشریف لائے ہوئے ہیں۔وہ لکھتے ہیں۔بنگلہ دیش میں جب پہلی مرتبہ خطبہ جمعہ بذریعہ سیٹیلائٹ سنا گیا تو ڈھاکہ، احمد نگر، چٹا گانگ اور تر وہ میں بڑا دردناک نظارہ تھا ، لوگ رور ہے تھے اور سسکیاں لے لے کر رو ر ہے تھے۔احمد نگر میں تو حضور کی تصویر ٹی۔وی پر آتے ہی لوگوں نے نعرے لگائے اور اس موقعے پر روتے جاتے تھے اور نعرے لگاتے جاتے تھے۔تر وہ میں تو ٹیلی فون اور جدید سہولیات بھی مہیا نہیں ،سڑک بھی نہیں ہے ، وہاں ڈش انٹینا پر پہلا خطبہ دیکھنے کا جو نظارہ تھا وہ نا قابل بیان ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت سے یہ جدید سہولت ہم کو میسر آئی۔“ بنگلہ دیش ہی کا ایک اور دلچسپ واقعہ ہے۔ایک احمدی کو جو نئے نئے احمدی ہوئے تھے ،ایک مخالف مولوی پکڑ کر اپنے ساتھیوں کے پاس لے گیا، اس کو جان سے مار ڈالو۔اس نے کہا میری گردن حاضر ہے بیشک مار ڈالیں، دیر نہ کریں، یہ سر آپ کے سامنے ہے۔شاید اُس کی اس بات کا، اس صداقت کا ایسا رعب پڑا کہ وہیں سے کچھ آواز میں اٹھیں۔انہوں نے کہا اچھا ایک ہفتے کی مہلت دے دیتے ہیں، ایک ہفتے کے بعد اگر تم نے تو بہ نہ کی تو ہم تمہارا سر کاٹنے کے لئے آئیں گے۔اس نے کہا