خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 306 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 306

خطابات طاہر جلد دوم 306 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۳ء کیونکہ سچائی تو آپ کے چہرے سے ظاہر ہو رہی تھی اور گفتگو کا انداز ایسا تھا کہ اس زمانے میں اس کی مثال پیش نہیں کر سکتا۔آپ کے لئے میرے دل کی تمام دنیا حاضر ہے۔میں اپنی انفرادی کوشش کروں گا کہ احمدیت کی تبلیغ اپنے گاؤں جا کر کر سکوں اور اپنے قریبی رشتے داروں کو سمجھاؤں چاہے وہ جو کچھ کہیں۔“ امریکہ سے طاہر عبداللہ ھا گورا ایک دلچسپ واقعہ لکھتے ہیں۔کہتے ہیں: ڈش انٹینا سے متعلق میں دوستوں کو سکھا رہا تھا کہ اس طرح کم قیمت پر آپ ڈش انٹینا لگا سکتے ہیں تو ایک صاحب پر نظر پڑی، ان کو بھی میں نے سکھانا شروع کر دیا اور بتایا کہ اس طرح خرید و، وہاں سے لو اور وہ مسکرا مسکرا کر مجھے دیکھتے رہے مگر کچھ کہا نہیں۔جب وہ چلے گئے تو کسی نے بتایا کہ یہ تو غیر احمدی ہیں جن کو آپ بتا رہے تھے کہ ڈش انٹینا کیسے لگتا ہے لیکن دو دن کے بعد ہی اسی دوست نے ان کو خبر دی کہ وہی دوست جو غیر احمدی تھے یہ پروگرام دیکھنے کی وجہ سے خدا کے فضل کے ساتھ اپنے پانچ بچوں اور بیگم سمیت بیعت فارم پُر کر چکے ہیں۔“ ہمارے ربوہ کے ایک بہت ہی مخلص فدائی دوست ہیں بشارت احمد خان صاحب، جن کو ڈش ماسٹر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔انہوں نے افریقہ میں جا کر بہت عظیم خدمات سرانجام دی ہیں، ابھی بھی یہ غانا ہی میں ہیں۔ان کے جانے کے بعد کثرت سے غانا میں انٹینے لگے اور بہت ہی سستی قیمت پر اور افریقہ کے باقی ممالک سے آنے والوں کو بھی انہوں نے تربیت دی اور وہ بھی اپنے اپنے ملکوں میں جا کر آگے دوستوں کو سکھا رہے ہیں اور اپنے ملکوں میں ڈش انٹینے نصب کر رہے ہیں۔یہ سب کچھ کرنے کے بعد انہوں نے اپنی آنکھوں سے جو نظارے دیکھے ہیں، اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ۔سماسی اور بچی مان اور کمالی میں ڈش انٹینا کی فٹنگ کے دوران نظاره قابل دید تھا ، ہزاروں لوگ ڈش انٹینا دیکھنے کے لئے امڈ آئے ، لوگ سڑکوں پر کھڑے ہو گئے اور ٹریفک رک گیا۔اردگرد کے مکانوں کی بالکونیوں