خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 301
خطابات طاہر جلد دوم 301 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۳ء دوسرا اقتباس مختلف نو جوانوں کا ڈش انٹینا کا شوق خدا تعالیٰ نے کس طرح قبول فرمایا ہے اور جو قربانی پیش کی ہے خدا اسے کس طرح ثمرات سے نوازا ہے۔اس کے بھی بکثرت نظارے مختلف خطوں میں دکھائی دیتے ہیں اور بعض خط تو معلوم ہوتا ہے ایسے جذبات کی صورت میں لکھے گئے ہیں کہ ان کی سیاہی آنسوؤں سے بھیگی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔امریکہ کے ایک نوجوان نے ڈش انٹینا کے ذریعے خطبہ سننے کے شوق کا ذکر کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ ” میرے پاس چالیس ڈالر رہ گئے تھے جس میں سارے مہینے کا گزارہ کرنا تھا اور جہاں ڈش انٹینا نیویارک میں لگا ہوا تھا وہاں تک پہنچنے کے لئے مجھے اڑ نہیں ڈالر کی ضرورت تھی۔ساری رات میں بیقرار رہا کہ اے خدا کیا فیصلہ کروں اپنا روحانی شوق پورا کروں یا جسمانی زندگی کے سامان کی فکر کروں اور جلسے میں جانے کا پروگرام چھوڑ دوں۔“ کہتے ہیں۔اس بے چینی اور بیقراری میں رات گزری۔صبح میں نے فیصلہ کر دیا جو ہوگا دیکھا جائے گا، میں یہ اڑ میں ڈالر خرچ کر کے ضرور ٹی۔وی انٹینا پر خطبہ سننے جاؤں گا۔کہتے ہیں۔” جب میں چلنے لگا تو مجھے چلتے ہوئے خیال آیا کہ یونیورسٹی سے ہوتا جاؤں ، وہاں مختلف امور پر نوٹس لگے ہوتے ہیں۔وہاں گئے تو بورڈ پر نوٹس لگا ہوا تھا کہ فلاں شخص ابھی چند منٹ کے اندراندر کار پر نیویارک جارہے ہیں اگر کسی نے جانا ہے تو تھوڑی قیمت پر یعنی عام کرایوں سے کم قیمت پر اس کو وہ لے جاسکتے ہیں۔“ کہتے ہیں۔میں دوڑا دوڑا گیا کار پکڑی اور بیٹھ کر خدا تعالیٰ کی حمد کے ترانے گائے۔اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو، کہاں جا رہے ہو؟ میں نے یہ واقعہ سنایا۔اس کے دل پر اتنا اثر پڑا کہ اس نے کہا! میں تم سے ایک پیسہ بھی وصول 66 نہیں کر سکتا۔“