خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 287
خطابات طاہر جلد دوم 287 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۲ء کے اخلاق اس طرح نہیں بنائے جاتے جس طرح ایک مخاطب کے اخلاق ہوتے ہیں۔وہ یہ سمجھے کہ میں اس جماعت کا نمائندہ ہوں جس پر پاکستان میں مظالم ہوئے ہیں اور گویا میں ہندوستان کی پناہ میں آنے کے لئے وہاں آیا ہوں۔میں نے ان پر خوب کھول دیا کہ میں پاکستان کا نہ نمائندہ ہوں نہ پاکستانی احمدیوں کی نمائندگی میں یہاں آیا ہوں۔خدا کی قسم میں بنی نوع انسان کا نمائندہ ہوں، اس خدا کا نمائندہ ہوں جس نے بنی نوع انسان کو پیدا کیا ہے۔پس مجھ سے ہرگز کوئی ایسی توقع نہ رکھو کہ کسی کا مارا ہوا کسی اور کی پناہ میں آنے والا ہوں۔میں خدا کی پناہ میں ہوں مجھے اور کسی پناہ کی ضرورت نہیں، میری جماعت خدا کی جماعت ہے اور خدا کی پناہ میں ہے اسے کسی اور پناہ کی ضرورت نہیں۔تمہیں ہماری ضرورت ہے تم آج ہمارے محتاج بنائے گئے ہو کیونکہ خدا نے ہماری عقلوں کو تقوی سے جیسے صیقل فرمایا ہے جب تک تم ہماری ہدایت کو قبول نہیں کرتے اور ہماری عقل کے اس نور سے روشنی نہیں پاتے جو خدا کے نور سے روشن ہوئی ہے تم نجات نہیں پاسکتے تمہارے مسائل کا حل نہیں ہوسکتا۔چنانچہ ان کو میں نے سمجھایا کہ سیاست کی چالاکیوں سے بالا ہو کر انسانی سطح پر پاکستان سے اپنے تعلقات کو استوار کرنے کی کوشش کرو اور پاکستان کے سر براہوں کو بھی میں یہی پیغام دیتا ہوں کہ چھوٹے چھوٹے ادنی سیاسی اغراض و مقاصد میں ملوث ہو کر تم بنی نوع انسان کے اعلیٰ اور اولیٰ مقاصد کو نظر انداز نہ کرو۔دونوں ممالک کے غریب تمہارے ظلموں میں پیسے جارہے ہیں، تمہاری سیاست کی چکی میں یہ پارہ پارہ کئے جار ہے ہیں۔ایک ہندو جب دکھ میں مبتلا ہوتا ہے تو خدا کا ایک بندہ مبتلا ہوتا ہے، ایک سکھ جب دکھ میں مبتلا ہوتا ہے تو خدا کا ایک بندہ مبتلا ہوتا ہے ، ایک مسلمان جب دکھ میں مبتلا ہوتا ہے تو خدا کا ایک بندہ مبتلا ہوتا ہے۔جب تک تو حید کی برکت سے تم یہ سوچ پیدا نہ کرو جب تک تمام بنی نوع انسان کے لئے اپنے دل میں وسعتیں پیدا نہ کرو تم تو حید سے وابستہ نہیں ہو سکتے اور بنی نوع انسان کو ایک ہاتھ پر اکٹھا نہیں کر سکتے اور ان کی بہبود کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔تمہاری ہر سوچ ٹیڑھی ہو جائے گی کیونکہ وہ سیاست کے بتوں کی عبادت کرنے والی سوچ ہے اور غیر اللہ کی عبادت کرنے والی سوچ کبھی بنی نوع انسان کو نجات نہیں بخش سکتی۔اسی وجہ سے جب اس جلسے سے پہلے مجھ سے سوال کیا گیا کہ ہم جس طرح اور ایمبیسیڈ رز کو اور سفیروں کو دعوت دیتے ہیں، پاکستان کے سفیر کو بھی دعوت دیتے ہیں کیا ہندوستان کے سفیر کو بھی