خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 272 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 272

خطابات طاہر جلد دوم 272 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۲ء والسلام کی تحریروں میں سے اقتباسات لئے ہیں جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی تعلیم کا عرفان رکھنے والے کلمات ہیں۔وہ ایسے کلمات ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے دل سے نہیں پھوٹے بلکہ پہلے اس بادی کامل سے آپ نے ہدایت پائی اور پھر اسی کی زبان کو سمجھ کر نئے رنگ میں دنیا کے سامنے اس طرح سمجھا سمجھا کر پیش کیا کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا کلام رہتی دنیا تک ایک انسان سے دوسرے انسان تک مختلف پیمانوں میں پہنچتا رہے۔کہتے ہیں کہ پرانی شراب نئی بوتلوں میں بٹتی رہے، اگر یہ بات درست ہے کہ پرانی شراب کی کوئی قیمت ہے اگر نئی بوتلوں میں پرانی شراب کا بانٹنا پرانی شراب کی بہتک نہیں بلکہ اس کی شان کو بڑھانے والی بات ہے۔تو یہ نئی بوتلیں جو آج مسیح موعود نے آپ کے ہاتھوں میں تھمائی ہیں ان میں وہی شراب کہنہ ہے جو محمد مصطفیٰ کی توحید کی شراب ہے اس کے سوا اور کوئی شراب نہیں۔جب تک اس شراب سے بھر بھر کے گھونٹ نہیں پئیں گے، جب تک اس میں مست ہو کر تمام دنیا میں یہ شراب کے پیمانے ہاتھوں میں لے کر نہیں نکلیں گے اور دنیا کو اس شراب سے مدہوش نہیں کریں گے یہ دنیا واپس خدا کی طرف نہیں آئے گی اور اس دنیا کی نجات کے اور کوئی سامان ممکن نہیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اسلام وہ مصفا اور خالص تو حید لے کر آیا تھا جس کا نمونہ اور نام ونشان بھی دوسرے ملتوں اور مذہبوں میں پایا نہیں جاتا۔یہاں تک کہ میرا ایمان ہے کہ اگر چہ پہلی کتابوں میں بھی خدا کی تو حید بیان کی گئی ہے اور کل انبیاء علیہم السلام کی بعثت کی غرض اور منشاء بھی تو حید ہی کی اشاعت تھی لیکن جس اسلوب اور طرز پر خاتم الانبیاء ﷺہ توحید لے کر آئے اور جس نہج پر قرآن نے توحید کے مراتب کو کھول کھول کر بیان کیا ہے کسی اور کتاب میں اُس کا ہر گز پتا نہیں ہے۔پھر جب ایسے صاف چشمے کو انہوں نے مکڈ ر کرنا چاہا ہے تو بتاؤ اسلام کی تو ہین میں کیا باقی رہا۔اس پر ان کی بدقسمتی یہ ہے کہ جب ان کو وہ اصل اسلام جو آنحضرت مال لے کر آئے تھے پیش کیا جاتا ہے اور قرآن شریف کے ساتھ ثابت کر کے دکھایا جاتا ہے کہ تم غلطی پر ہو تو کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا اسی طرح مانتے آئے ہیں۔۔۔“