خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 253 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 253

خطابات طاہر جلد دوم 253 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء جائیں گے صرف احمد یوں تک محدود نہیں رکھے جائیں گے۔پس انشاء اللہ مجلس شوریٰ میں ان باتوں پر غور ہوگا اور مزید جتنی ضرورت پیش آتی جائے گی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے خدا تعالیٰ اپنی طرف سے از خودضرورتیں پوری کرتا چلا جارہا ہے۔کبھی ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ خدا کے کاموں کی خاطر مجھے روپے کی ضرورت پڑی ہو اور اُس نے ضرورت سے زیادہ مہیا نہ فرما دیا ہو۔پس اس بارے میں مجھے ادنی سا بھی تر د دی و ہم نہیں ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہی تو کل ہے جس کا آپ نے ابھی ذکر سنا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اسی تو کل کی خیرات ہم کھا رہے ہیں اور ہم بھی اُسی تو کل کے رنگ میں رنگین ہوتے ہوئے اپنے خدا پر بھروسہ رکھتے ہیں اور وہ ہمیشہ ہمارے بھروسے کا بھرم رکھتا ہے اور کبھی اُس نے ہمیں شرمندہ نہیں کیا۔ہندوستان میں تبلیغ کی طرف توجہ تو ہوئی ہے لیکن ابھی بہت ضرورت ہے۔تبلیغ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ جاتے ہی اختلافی مسائل چھیڑ بیٹھیں اور یہ احساس ہو کہ آپ اپنی تعداد بڑھانا چاہتے ہیں۔وہ تبلیغ جو اپنی تعداد بڑھانے کی نیت سے کی جائے اس نیت میں ایک فتور ہوتا ہے۔تبلیغ اس غرض سے اس مقصد سے ہونی چاہئے کہ خدا والوں کی تعداد بڑھے۔جو اللہ والے ہیں وہ کثرت سے پھیلیں اور اگر یہ آپ کی جماعت میں داخل نہیں بھی ہونا چاہتے تو ان میں اللہ کے رنگ پہنچیں اور آپ کی نصیحت کا فیض عام ہو جائے یہ وہ حقیقی تبلیغ کی روح ہے۔اگر آپ اس کو زندہ رکھیں گے تو تعداد تو از خود بڑھے گی گو آپ کا مقصود نہ ہو۔جو لوگ اللہ کی خاطر بنی نوع انسان کو اللہ کی طرف بلاتے ہیں اور اپنے نفس کی ملونی بیچ میں نہیں رکھتے اُن کی تبلیغ میں غیر معمولی برکت پڑتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ ان کے اعمال صالح ہوں۔ان کے اعمال ایسے پاک ہوں کہ جن کو بلا رہے ہیں وہ پہچان لیں کہ اللہ والے ہمیں اللہ کی طرف بلا رہے ہیں۔یہ نہ ہو کہ بلانے والا تو خدا کی طرف بلا رہا ہو اور اُس کے اعمال شیطان کی طرف اشارہ کرنے والے ہوں۔اگر ایسا تضاد مبلغ کے کلام اور اُس کے عمل میں پیدا ہو جائے تو اس کا کلام برکت سے محروم رہ جاتا ہے۔اس لئے خدمت کرتے وقت بھی یادر کھیئے اور میں اس کی تکرار کرتا ہوں کہ ضرور یاد رکھیں کہ خدمت مذہب کی طرف کھینچنے کی غرض سے نہیں ہونی چاہئے۔خدمت بنی نوع انسان کا دکھ دور کرنے کی خاطر ہونی چاہئے۔اگر چہ یہ ضرور ہے اور لازماً ایسا ہوتا ہے کہ خدمت کے نتیجے میں لوگ اس مذہب کی طرف بھی مائل ہوتے ہیں جس کے غلام بنی نوع