خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 241
خطابات طاہر جلد دوم 241 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مبارک دور حیات ہی میں ہو چکا تھا اور بعد میں جب خلافت ثانیہ کے زمانہ میں جیسا کہ مجھے یاد تھا 27،26، 28 تاریخیں مقرر کی گئیں تو یہ منشاء مبارک کے خلاف نہیں تھا بلکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اجازت اس میں شامل تھی۔یہ علم ہونے کے بعد پھر میں نے قادیان کی انتظامیہ کو اجازت دی کہ اگر اُن کے لئے ستائیس کو شروع کرنا مشکل ہے تو بے شک چھبیس ہی کی تاریخ رکھیں لیکن ستائیس تاریخ میں ایک اور بات یہ تھی کہ پہلا جلسہ بہر حال ستائیس کو شروع ہوا تھا اور پورے سو سال ستائیں کو ہی گزرنے تھے اور پہلے جلسے کی پہلی تاریخ کا اعادہ ستائیس ہی کو ہونا تھا پھر وہ مبارک دن جمعہ کا دن بھی ہے لیکن جلسے کی انتظامیہ نے محسوس کیا کہ اس سلسلے میں اب اگر تبدیلی کی گئی تو بہت سی وقتیں پیش آئیں گی اس لئے میں نے اس معاملے پر زیادہ زور نہیں دیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: دوستوں کو محض اللہ ربانی باتوں کے سننے کے لئے اور دعا میں شریک ہونے کے لئے اُس تاریخ پر آجانا چاہئے اور اس جلسہ میں ایسے حقائق اور معارف کے سنانے کا شغل رہے گا جو ایمان اور یقین اور معرفت کو ترقی دینے کے لئے ضروری ہیں اور نیز اُن دوستوں کے لئے خاص دعائیں اور خاص توجہ ہو گی اور حتی الوسع بدرگاہ ارحم الراحمین کوشش کی جائے گی کہ خدائے تعالیٰ اپنی طرف ان کو کھینچے اور اپنے لئے قبول کرے اور پاک تبدیلی اُن میں بخشے اور ایک عارضی فائدہ ان جلسوں میں یہ بھی ہوگا کہ ہر یک نئے سال جس قدر نئے بھائی اس جماعت میں داخل ہوں گے۔وہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہو کر اپنے پہلے بھائیوں کے منہ دیکھ لیں گے اور روشناسی ہو کر آپس میں رشتہ تو ڈ دو تعارف ترقی پذیر ہوتا رہے گا اور جو بھائی اس عرصہ میں اس سرائے فانی سے انتقال کر جائے گا۔اس جلسہ میں اُس کے لئے دعائے مغفرت کی جائے گی“۔پس اس جلسے کی دعاؤں میں اپنے مرحوم بھائیوں، ساتھیوں اور بہنوں اور بچوں کو بھی یاد رکھیں جو گزشتہ سال اور اس سال کے جلسوں کے دوران وفات پاگئے ہیں ) پھر فرماتے ہیں: