خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 234
خطابات طاہر جلد دوم 234 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء کر کے بتراضی فریقین انجمن کے مبر مقرر کئے جائیں۔اس کے بعد جلسہ ختم ہوا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہر دوست سے مصافحہ فرمایا۔یہ جماعت احمدیہ کا سب سے پہلا تاریخی اجتماع اور پہلا جلسہ سالا نہ تھا جس میں صرف 75 ا حباب شریک ہوئے۔کارروائی کی یہ رپورٹ الحکم سے لی گئی ہے۔یہ وہ زمانہ تھا جبکہ جماعت میں ابھی چندوں کا نظام جاری وساری اور مستحکم نہیں ہوا تھا۔اُس زمانے میں ہر قسم کے اخراجات کے لئے منتظمین حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی خدمت میں اپنے اپنے خرچ کے اندازے پیش کر کے حضور ہی کی طرف دست طلب بڑھاتے تھے اور خدا تعالیٰ مختلف ذرائع سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو قوم بھجوایا کرتا تھا آپ ان رقوم میں سے جن کا کوئی الگ حساب نہیں رکھا جاتا تھا حسب موقع خرچ کے لئے منتظمین کو رقم عطا فرمایا کرتے تھے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر جس طرح اخراجات ہوتے رہے اُس سلسلے میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی کی ایک روایت سننے کے لائق ہے تاکہ آج کی جماعتوں کو اندازہ ہو کہ یہ کتنا چھوٹا سا آغاز تھا جو آج اس عظیم الشان مقام اور مرتبے تک پہنچ چکا ہے۔منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر خرچ نہ رہا۔اُن دنوں جلسہ سالانہ کے لئے چندہ جمع ہو کر نہیں جاتا تھا۔حضور اپنے پاس سے ہی صرف فرماتے تھے۔میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے آکر عرض کی کہ رات کو مہمانوں کے لئے کوئی سامان نہیں ہے۔آپ نے فرمایا کہ بیوی صاحبہ سے کوئی زیور لے کر جو کفایت کر سکے فروخت کر کے سامان کرلیں۔(سیرۃ المہدی جلد دوم صفحه : ۹۷) چنانچہ حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا زیور میر ناصر نواب صاحب لے گئے اور اسے فروخت کر کے جو تم ہاتھ آئی اُس سے مہمانوں کے سالن کا انتظام کیا گیا۔روایت کرنے والے کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ زیور فروخت کیا گیا تھا یار بہن رکھا گیا تھا۔دونوں میں سے ایک واقعہ پیش آیا۔” دو دن کے بعد پھر میر صاحب نے رات کے وقت میری موجودگی میں کہا کہ کل کے لئے پھر کچھ نہیں۔فرمایا کہ ہم نے برعایت ظاہری اسباب