خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 230
خطابات طاہر جلد دوم 230 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۱ء پس آپ وہ سچائی ہیں، آپ وہ سچائی کے مظہر ہیں جس کا قرآن کریم میں ذکر فرمایا گیا ہے اور مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب تک تم اس سچائی کی طرف لوٹو گے نہیں ، جب تک اس رسی کو دوبارہ مضبوطی سے تھام نہیں لو گے جو خدا تعالیٰ دوبارہ آخرین میں اتارے گا تا کہ تمہارا تعلق محمد مصطفی سے ہمیشہ کے لئے مضبوط تعلق بن جائے اُس وقت تک تمہاری نجات کی کوئی راہ نہیں ہے۔وَأَمَّا الَّذِيْنَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِى رَحْمَةِ اللهِ هُم فِيهَا خَلِدُونَ (آل عمران : ۱۰۸) وہ لوگ جن کو چہروں کا نور عطا کیا جائے گا وہ وہ لوگ ہیں جو دوبارہ اس رسی پر مضبوطی سے ہاتھ ڈال دیں گے اور پھر اولین سے ملائے جائیں گے۔جیسے اولین کے چہرے نور سے پُر رونق تھے اور روشن تھے اسی طرح آخرین کے چہرے دوبارہ اسی نور سے پُر رونق کئے جائیں گے، اُسی نور سے ان کو زینت بخشی جائے گی جو محمد مصطفی ﷺ کا نور ہے جو آسمان سے اتارا گیا، وہ مجسم نور ہے جس کا سورہ نور میں ذکر فرمایا گیا ہے۔فرمایا هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔یہاں خوشخبری بھی ہے اور یہ بتایا بھی گیا ہے کہ اب نیکی کو اختیار کرنے کے بعد پیچھے قدم نہیں ہٹانا اور ایک خوشخبری بھی ہے، ایک اور خوشخبری بھی ہے وہ یہ ہے کہ اب خلافت دائی ہوگی ، هُم فِيهَا خَلِدُونَ کے مضمون کو سمجھنا ہو تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ نے جو وعدے فرمائے ہیں ان پر غور کریں۔آپ نے فرمایا قدرت ثانیہ جو عطا کی جائے گی وہ دائمی ہوگی ، وہ ہمیشہ کے لئے رہے گی۔پس دیکھیں خلد فون کا مضمون کس طرح اس مضمون سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔پس خلافت کے ساتھ ہمیشہ وابستہ رہیں وفا کے ساتھ اور اجتماعی طور پر اور انفرادیت کو ترک کردیں یہ ہلاکت کی راہیں ہیں۔انفرادیت کو ان معنوں میں بے شک ترقی دیں کہ آپ کی انفرادیت ذاتی اصلاح کی غرض سے ہو، آپ اپنے قطرے کی حالت بہتر بنانا چاہیں۔آپ اس قطرے کو جب سمندر میں ڈالنا چاہتے ہوں اور وہ لازماً آپ کو سمندر کے سپرد کرنا ہوگا تو ان معنوں میں انفرادیت اختیار کریں کہ اس قطرے میں جتنے نقص ہیں اسے دور کرنے کی کوشش کریں تا کہ سمندر آپ کے وجود سے گدلا نہ ہو اور آپ کے وجود سے میلا نہ ہو اور آپ کے وجود سے زہریلا نہ بن جائے۔انفرادیت کا مقام یہی مقام ہے اس سے آگے ایک قدم بھی انفرادیت کا اٹھانے کی اجازت نہیں ہے۔پھر اپنے