خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 20 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 20

خطابات طاہر جلد دوم 20 20 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۳ء اپنے رب کی طرف بلائے۔بڑا ہی خوش نصیب دور ہے جب ہم اس پہلو سے اس دور کا جائزہ لیتے ہیں کہ ایک منادی الی اللہ پیدا ہو لیکن ایک اور پہلو سے جب ہم اس دور کا جائزہ لیتے ہیں تو بہت ہی تکلیف دہ حالات سامنے آتے ہیں۔بہت کم ہیں وہ لوگ جن کو ابھی تک توفیق ملی ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے مصلح ، داعی الی اللہ اور نجات دہندہ کو پہچان سکیں اور باقی دنیا کا اس انکار کے نتیجہ میں جو حال ہے وہ اتنا تکلیف دہ ہے اور روز بروز اس انکار کے نتیجہ میں خطرات اتنے بڑھتے چلے جارہے ہیں کہ بعید نہیں کہ انسان خود دوسرے انسان کی ہلاکت کا سامان کرے اور ساری دنیا کو ایک عالمی جنگ کی لپیٹ میں لے آئے جس کے بعد خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کس حال میں بچے کھچے انسان باقی رہیں گے۔آج یہ دنیا نفرتوں کی شکار ہے۔شمال جنوب سے نفرت کر رہا ہے اور جنوب شمال سے۔مغرب کو مشرق سے نفرت ہے اور مشرق کو مغرب سے اور پھر اپنے اپنے دائرہ میں یہ مزید نفرتوں میں بٹے ہوئے ہیں۔مغرب کی تقسیمیں بھی نفرت کی بنا پر ہیں اور مشرق کی تقسیمیں بھی نفرت کی بنا پر ہیں۔قومیں قوموں سے نفرت کر رہی ہیں اور ملک ملکوں سے اور ایسے ملک بھی ہیں جن میں ایک ہی ملک کے باشندے دوسرے ملک کے باشندوں سے نفرت کر رہے ہیں۔ان سب نفرتوں کے نتیجہ میں دنیا امن کی راہ تو نہیں دیکھ سکتی۔حقیقت یہ ہے کہ جنگ کی آگ دراصل پہلے سینوں میں بھڑ کا کرتی ہے۔جب سینے جلتے ہیں تو وہی آگ ہے جو مختلف شکلیں اختیار کرتے ہی دوسرے انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔کبھی وہ زمین سے اٹھتی ہے کبھی آسمان سے برستی ہے۔نہ سمندر اس کی زد سے محفوظ رہتے ہیں نہ خشکمیاں، نہ کوہ نہ گاہ ، ہر جگہ یہ آگ لیکتی ہے جو پہلے سینوں میں تیار ہوتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے جہاں آخری زمانہ کی تباہی کا نقشہ کھینچا وہاں سینوں ہی کو ذمہ دار قرار دیا اس آگ کا جو آخری زمانہ میں انسان کو ہلاک کرنے کے لئے خود انسان اپنے ہاتھوں تیار کرے گا۔فرمایا تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْدَةِ (الحمر :۸) یہ ایسی آگ ہے جو پھر دلوں پر واپس جھپٹے گی جن دلوں میں وہ پیدا ہوئی تھی جن دلوں میں سے باہر آ کر اس نے خوفناک شکلیں اختیار کی تھیں۔پھر وہ واپس لیکے گی اور انہی دلوں کو جلا کر رکھ دے گی جن دلوں سے یہ پیدا ہوئی تھی۔غرض اس نفرت کے نتیجہ میں اتنے شدید خطرناک حالات ہیں کہ امن کے جتنے سانس بھی نصیب ہوں یہی غنیمت ہیں اور بظاہر اس خوفناک انجام سے بچنے کی کوئی اور صورت نظر نہیں آ رہی جو اس وقت انسان کو در پیش ہے۔ایک ہی صورت تھی اور