خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 210
خطابات طاہر جلد دوم 210 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۱ء مضمون دکھائی دے گا اور حمد کی آوازیں سنائی دیں گی۔کوئی ایک لمحہ بھی اس کا ئنات پر ایسا نہیں آتا، کوئی ایک لمحہ بھی اس کائنات کے کسی ایک ذرے پر ایسا نہیں آتا جب وہ خدا تعالیٰ کی حمد کے گیت نہ گار ہا ہولیکن وہ انسان جسے حمد کے لئے کامل کیا گیا، جسے اس مقام عروج تک پہنچایا گیا جس کے ساتھ حمد کا مضمون اپنے معراج کو پہنچتا ہے وہ اپنی بدقسمتی اور بدنصیبی سے اس مضمون سے غافل ہوا ہے۔پس جب ہم اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کہتے ہیں تو اس کے دو معنے بنتے ہیں۔ایک یہ کہ ساری کائنات اس کا ذرہ ذرہ خدا کی حمد میں مصروف ہے اور اس پہلو سے وہ کائنات جو حمد باری تعالیٰ میں مصروف ہے اسے اختیار نہیں ہے۔وہ حمد کے لئے پیدا کی گئی ہے، اُس کی پیدائش فی ذاتہ حمد ہے لیکن جب انسان کو اختیار دیا گیا کہ چاہے تو وہ حمد کرے چاہے تو حمد نہ کرے، اُس وقت کائنات کا امتحان ہوا ہے اور انسان کو اس امتحان کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اس وقت اگر وہ حمد کے مضمون کو سمجھے اور اس کا حق ادا کرے تو وہ انسان اس درجہ کمال کو پہنچتا ہے جس درجہ کمال کے لئے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو خلعت وجود بخشی گئی تھی۔درحقیقت محمد کا معراج حمد کا معراج ہے۔اس سے پہلے کبھی کسی نے حمد کے مضمون کو اس بلندی تک نہیں پہنچایا جیسا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ہے نے حمد کے مضمون میں ڈوب کر اُسے بلندیوں کے کمال تک پہنچا دیا۔آج ہم اسی کامل رسول کے غلاموں کے طور پر یہاں اکٹھے ہوئے ہیں اور حمد کو اس مضمون کے ساتھ ہم نے ادا کرنا ہے کہ جس کے نتیجے میں وہ حمد جو غیر شعوری طور پر اور شعوری طور پر ساری کائنات میں جاری ہے شعوری طور پر انسان میں جاری ہو اور انسانیت کی پیدائش کا مقصد نہ صرف پورا ہو بلکہ اپنے منتہا کو پہنچے اور اپنے معراج کو پہنچے اور یہ معراج حضرت محمد مصطفی ﷺ کی غلامانہ پیروی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔پس اس پہلو سے جب ہم اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کو پھر دوبارہ پڑھتے ہیں تو اس میں ایک درد کا مضمون پیدا ہو جاتا ہے، ایک اور آواز دل سے اٹھتی ہے کہ وہ خدا جس کے لئے حمد زیبا ہے، اسی کا حق ہے۔ساری کائنات اس کی حمد کے ترانے گا رہی ہے، ایک انسان بدنصیب ہے جو اس کی حمد سے محروم ہے اور تمام عالم پر جب آپ اس پہلو سے نگاہ ڈالتے ہیں تو دل گہرے غم سے بھر جاتا ہے۔جماعت احمدیہ کے قیام کا اعلیٰ اور حقیقی مقصد یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی حمد کو انسان کے نفوس