خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 192
خطابات طاہر جلد دوم 192 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء ان کے تفصیلی خطوط بہت ہی دردناک موصول ہوتے رہے۔وہ سب تو پیش کرنے کا وقت نہیں ، ایک مختصر سا اقتباس میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔وہ لکھتے ہیں : آپ کو چک سکندر کے تفصیلی حالات کا علم ہو چکا ہے۔ہمارے تمام احمدی بے گھر ہو گئے ہیں اور گھر جلا دیئے گئے ہیں اور ہمارے تمہیں آدمیوں کو قتل اور اقدام قتل کے مقدمے میں پھنسا کر جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ہمارے دو آدمی اور ایک دس سالہ بچی شہید ہو گئے ہیں اور چھ شدید زخمی ہوئے ہیں۔مخالف فریق میں سے کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔مود ود احمد صاحب ابن مکرم مولوی عبد الخالق صاحب چک سکندر لکھتے ہیں : ”آپ کی خدمت میں خط لکھا تھا جس میں اپنے گاؤں چک سکندر کے شہیدوں اور زخمیوں، مہاجروں کے بارے میں دعا کے لئے لکھا تھا۔سیدی ! میرے تایا زاد بھائی مکرم ماسٹر عبدالرزاق صاحب جو کہ زخمی تھے، پہلے تو لاہور ہسپتال میں زیر علاج تھے لیکن ان ظالموں سے یہ بھی نہ دیکھا گیا کہ ان کا علاج ہو سکے، ابھی وہ مکمل طور پر صحت یاب بھی نہیں ہوئے تھے کہ ان کو لاہور ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا اور پھر وہ کھاریاں ہسپتال میں داخل کروائے گئے لیکن ان ظالموں نے ان کو اس حالت میں بھی بستر پر ہتھ کڑی لگائے رکھی۔“ ایک احمدی خاتون جور بوہ میں چک سکندر کی ان خواتین سے ملنے گئیں جو مظالم کا نشانہ بنائی گئی تھیں۔انہوں نے ایک لمباخط لکھا ہے اپنے تاثرات کا اور وہ بہت ہی درد ناک خط ہے جس کا پڑھنا مشکل ہے لیکن اس میں سے میں ایک اقتباس آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس سے آپ کو اندازہ ہو کہ جن کے دکھ سے ساری دنیا کے احمدیوں کے دل دکھ سے لبریز ہوکر آنکھوں سے برسنے لگتے ہیں ، وہ خود کتنے حوصلے میں ہیں خدا کے فضل کے ساتھ اور کتنے عزم کے ساتھ ان مشکلات اور مصائب کا مقابلہ کر رہے ہیں۔وہ بھتی ہیں : ایک دن عاجز ہ مہمانوں کو رات کا کھانا کھلانے میں مصروف تھی کہ ہمارے شہید مکرم رفیق احمد ثاقب کی بیوہ اپنے ڈیڑھ دو سال کے بچے کو جو بہت