خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 169 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 169

خطابات طاہر جلد دوم 169 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۹ء متعلقہ اے سی اور ڈی ایس پی سے ملے انہوں نے کہا ہر گز فکر نہ کریں۔تمام علماء نے ہم سے خدا کی قسمیں کھا کر وعدہ کیا ہے کہ ہم صرف جلوس نکالیں گے اس کے علاوہ کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔اس لئے آپ مطمئن رہیں اپنے گھروں میں بیٹھے رہیں جلوس نکلنے دیں اس سے آپ کو کیا فرق پڑتا ہے۔اس کے بعد یہ خدا کی قسمیں کھانے والوں نے جو سلوک کیا اس کے متعلق لکھتے ہیں۔باقاعدہ پر وگرام بنا کر حملہ آوروں کو گروپوں کی شکل میں ترتیب دیا گیا تھا۔تقریباً ایک گھنٹے کے اندر اندر سارے احمدی گھروں کو جلا کر خاکستر کر دیا گیا۔خاکسار نے بھی چار ماہ بیشتر نیا مکان تعمیر کیا تھا ابھی اس مکان کا 55 ہزار قرض بھی واجب الادا تھا کہ اسلام کے نام نہاد ٹھیکیداروں نے ۱۲ اپریل ۱۹۸۷ء کو مکان کو شدید نقصان پہنچایا مکان کے دو کمروں کی چھت اور فرش بالکل خراب ہو چکے ہیں اور گھر کا ہر قسم کا اثاثہ نذر آتش ہو گیا ہے۔خاکسار کا ذاتی ریکارڈ بھی ضائع ہو گیا ہے۔ظالموں نے صرف ہمارے زیب تن کپڑے چھوڑے اور ہر قسم کے پار چات بھی نذر آتش کر دیئے۔صرف ایک چیز یعنی ایک غیر احمدی دوست کا موٹر سائیکل بیچا جو کہ میرے پاس اس سے زیادہ وقت نہیں تھا کہ میں چند منٹ کے اندراندر اس موٹر سائیکل کو کسی محفوظ جگہ پہنچادوں کیونکہ یہ کسی کی امانت تھی۔اسی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے خولا بنت ڈاکٹر عبدالغفور صاحب لکھتی ہیں۱۲ اپریل کو ہم صبح صبح جاگے تو اعلان ہوا کہ قادیانیوں کے خلاف جلوس نکالے جائیں گے، ہم تو یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ جانی و مالی نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہیں ایک دم جلوس شعلوں کی طرح بھڑکتا ہوا ہمارے گھر کی طرف آ گیا ہمارے ہمسایوں نے ہمیں پناہ دی۔جب وہ پہلے مسجد میں گئے تو انہوں نے مسجد کے مینار گرائے تو میری والدہ نے میرے ابا جان کو کہا کہ مسجد کی حفاظت کیلئے جیسا بھی ہو سکے ضرور پہنچو، میرے ابا جان اور میرے بہنوئی سلطان احمد صاحب مسجد کی حفاظت کیلئے چلے گئے تو انہوں نے ان دونوں کو بہت مارا پیٹا۔میرے ابا جان تو ابھی تک چل پھر بھی نہیں سکتے اور نہ اٹھ بیٹھ سکتے ہیں۔وہ دونوں ان دنوں شیخو پورہ ہسپتال میں جماعت احمدیہ کی طرف سے زیر علاج ہیں ان کی غیر موجودگی میں مخالفین ہمارے گھر آئے اور سارا گر تباہ و برباد کر دیا، قیمتی سامان تو ایک طرف سر چھپانے کیلئے بھی کوئی جگہ نہیں چھوڑی لکھتی ہیں کہ میں فرسٹ ائیر کی طالبہ ہوں اور تھوڑے دنوں کے بعد ہمارے پیپر بھی شروع ہونے والے ہیں۔میری پڑھائی والی بھی تمام کتابیں جلا دی گئی ہیں دعا