خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 168 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 168

خطابات طاہر جلد دوم 168 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۹ء کہ یہ کیا ہوا ہے کسی آدمی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ قادیانیوں کے تو سارے گھر اور سامان جلا دیئے گئے ہیں لکھتی ہے پیارے ابا حضور ! انہوں نے میرے کھلونے ،سائیکل سختی وغیرہ سب کچھ جلا دیا ہے جب میں نے پڑھا تو بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو برسنے لگےلیکن پھر معابعد مجھے شرمندہ ہونا پڑا اور اس چھوٹی سی بچی سے مجھے سبق سیکھنا پڑا۔اس کے بعد وہ لکھواتی ہے لیکن میں بالکل نہیں روٹی کیونکہ اللہ نے پہلے سے بڑھ کر دینا ہے کوٹھی ، کار اور بڑی سی گڑیا، سائیکل دینی ہے اور کھلونے بھی۔امی جان کہتی ہیں کہ جو خدا کی راہ میں مال خرچ کرتا ہے خدا اس کو بہت زیادہ دیتا ہے۔کیسی کچی بات اس بچی نے کہی ہے، کیسے عظیم کردار کا نمونہ دکھایا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جن احمدیوں کے ماضی میں نقصان ہوئے تھے خدا نے اتنا بڑھا کر اس کو دیا اور ایسے ایسے فضل ان پر نازل فرمائے کہ اس سے پہلے وہ خواب میں بھی یہ سوچ نہیں سکتے تھے کہ ان کو خدا تعالیٰ ایسی ایسی نعمتیں عطا کرے گا۔صبر کا امتحان جتنا لمبا ہو اتنے ہی فضلوں کا سلسلہ بھی زیادہ دیر تک جاری رہتا ہے اور غیر معمولی جزا خدا کی طرف سے ملتی ہے اس لئے اس بارے میں اک ذرہ بھر بھی نہ مجھے شک تھا نہ ہے، نہ ہوگا کہ وہ تمام احمدی جو پاکستان میں دکھ اٹھا رہے ہیں ان کے دکھوں کے نتیجے میں خدا تعالیٰ جو دنیا میں فضلوں کی بارش نازل فرما رہا ہے وہ ایک زائد فضل ہے۔براہ راست ان لوگوں کو یقیناً خدا کی رحمت پہنچے گی اور اس کثرت کے ساتھ ان پر فضل نازل ہوں گے کہ وہ اپنے دکھوں کو یاد کر کے شرمندہ ہوا کریں گے اور کہیں گے اے خدا! ہم نے بے صبری دکھائی اور ہم نے جود کھ محسوس کیا حقیقت یہ ہے کہ تیرے فضلوں کے ساتھ اس دکھ کی کوئی نسبت نہیں۔معمولی سے کانٹے کی چھن کے مقابل پر تو نے بے انتہا فضل ہم پر نازل فرمائے ہیں۔اسی لئے آپ دیکھیں گے کہ یقیناً وہ زمانہ آئے گا کہ تمام احمدی جو آج مظلوم ہیں خدا تعالیٰ ان کے مراتب بلند کرے گا۔اس دنیا میں بھی ان کو عزتیں اور اموال دے گا اور خوشیاں نصیب فرمائے گا اور آخرت میں بھی اس قدر بے انتہا دے گا کہ ان کا تصور اس کو نہیں پہنچ سکتا۔ننکانہ صاحب سے ہی ایک اور دوست لکھتے ہیں کہ ہمیں چند دن پہلے سے ان حالات کے متعلق اندازہ ہو چکا تھا اور ہم ہر طرح سے انتظامیہ کو متنبہ کر رہے تھے اور بڑے سے بڑے افسروں کو تاریں بھی بھجوائی جا چکی تھیں اور پھر ہم خود مل کر بھی مقامی و ضلعی انتظامیہ سے گفت و شنید کرتے تھے ان کو بتاتے تھے یہ خطرات ہیں اور آپ کو مناسب انتظام کرنا چاہئے۔کہتے ہیں ایک موقع پر جب ہم