خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 164 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 164

خطابات طاہر جلد دوم 164 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۹ء کے شیشے توڑ دیئے گئے تمام لوگوں کو کہہ کر اس کا بائیکاٹ کر دیا گیا اور اس کے رزق کے سب دروازے بند کر دیئے گئے۔جب اس نے ناروے آنے کی کوشش کی تو ان کو پتا چل گیا اور مولویوں کا ایک وفد ناروے کی ایمبیسی پہنچا اور ان کو بتایا کہ فلاں شخص جب ناروے کا ویزہ لینے آئے گا تو اس کو نہیں دینا کیونکہ وہ اسائکم کی خاطر جانا چاہتا ہے چنانچہ اس بناء پر اس کو ملک سے نکلنے بھی نہیں دیا گیا۔ایک پرائیویٹ سکول کے مالک لکھتے ہیں کہ میرے سکول کے متعلق پہلے تو پرو پیگنڈا چلتا رہا کہ کسی طرح طلباء کو یہاں آنے سے روک دیا جائے لیکن جب اس میں کامیابی نہیں ہوئی تو یہ کہہ کر کہ اس سکول سے ہمارے جذبات مجروع ہوتے ہیں سکول پر حملہ کیا گیا فرنیچر کو توڑ پھوڑ دیا گیا اور سکول بند کر وا دیا گیا۔حیدرآباد سے ہمارے ایک نوجوان مبشر احمد گوندل صاحب لکھتے ہیں جو آج کل یہاں تشریف لائے ہوئے ہیں خدمت کیلئے۔نکانہ صاحب کے زخم ابھی تازہ ہی تھے کہ ڈاکٹر منور احمد صاحب سکرنڈ کی شہادت کا واقعہ ہوا۔ارمئی کو کوٹری میں احمدی لڑکے کا ایک غیر احمدی سے معمولی جھگڑا ہوا اور آپس میں صلح صفائی بھی ہو گئی لیکن علماء نے اس کو بہت اچھالا اور اس کے نتیجے میں ہر احمدی کے گھر پر اتنی گندی گالیاں لکھی گئی ہیں کہ کوئی شریف آدمی اس کے چند فقرے بھی برداشت نہیں کرسکتا اور اس بات پر پہرے ہیں کہ کوئی گالیاں مٹانہ دے اور ہمیں مجبور کیا جارہا ہے اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ ابھی تو یہ آغاز ہے تم نے اگر اس جگہ کو خالی نہ کیا اس شہر کو چھوڑ کر نہ گئے تو ہم تمہارے مکانوں کو آگ لگائیں گے اور تمہیں مجبور کر دیں گے کہ اس شہر کو خالی کر دو۔ان باتوں کے باوجود خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ احمدیت کی تبلیغ جاری ہے اور ایک دن بھی پاکستان میں ایسا نہیں آیا جبکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے نئے لوگ احمدیت میں داخل نہ ہور ہے ہوں اور جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے اس دعویٰ کا تعلق ہے کہ خدا مجھے لازماً غلبہ دے گا۔اس غلبے کے آثار صرف دنیا ہی میں نہیں پاکستان میں بھی دکھائی دے رہے ہیں جو کئی رنگ میں ظاہر ہورہے ہیں۔چنانچہ اس دور میں جو لوگ احمدیت قبول کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ ان کو یہ توفیق عطا فرماتا ہے کہ وہ شدید مخالفتوں کو بڑی جرات کے ساتھ اور ہنستے ہوئے برداشت کرتے ہیں لیکن صرف انہی پر ظلم نہیں ہوتا جب یہ پتا چلتا ہے کہ کسی شخص نے خصوصیت کے