خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 158 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 158

خطابات طاہر جلد دوم 158 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۹ء ہے جو امتثال امر کے نتیجے میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ انسان کے بس میں جو بھی تدبیر ہو وہ جتی المقدور اختیار کرے لیکن ہمارا بھروسہ دنیا پر نہیں اور دنیا نے اپنے عمل سے یہ ثابت بھی کر دکھایا ہے جس دنیا کو ہم جماعت احمدیہ کے حالات سے اور نہایت درد ناک حالات سے مطلع رکھتے چلے آئے ہیں اس دنیا میں بعض ممالک نے کچھ ہمدردی تو کی ہے لیکن اس سنجیدگی سے ان حالات پر غور نہیں کیا جس کے نتیجے میں پاکستان میں حالات تبدیل ہوں۔بعض ممالک میں سچی ہمدردی کا مظاہرہ ہوا ہے بعض میں نسبتاً زیادہ گہری ہمدردی کا لیکن جہاں تک اس قوت کا تعلق ہے جو غیر معمولی سنجیدگی سے پیدا ہوتی ہے اس قوت کا مظاہرہ آج تک دنیا کے کسی ملک نے نہیں کیا لیکن یہ میں شکوے کے طور پر نہیں بتا رہا بلکہ آپ کو یہ یاد کرا رہا ہوں کہ ہمارا تو کل خدا تعالیٰ پر ہے۔إِنَّمَا اشْكُوا بَى وَحُزْنِي إِلَى اللهِ (یوسف) (۸) کے مضمون کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔وہی درگاہ ہے جو ہمارے دلوں پر نگاہ رکھتی ہے جسے کچھ بتانے کی ضرورت نہیں۔جس کے سامنے سارے احوال کھلے پڑے ہیں وہ پاکستان کے ہی نہیں دنیا بھر کے احمدیوں کے جذبات پر نگاہ رکھتا ہے۔اس کی ایک خاص تقدیر ہے جو عالمی تقدیر ہے اور شر کے پردہ سے وہ خیر ظاہر کرنے والی تقدیر ہے اسی تقدیر پر ہماری بنا ہے اور ہماری دعائیں اور التجائیں اسی خدا کے حضور ہیں جو قادر مطلق ہے جب چاہے دنیا کے حالات کو پلٹ سکتا ہے، تبدیل کر سکتا ہے، بڑوں کو چھوٹا دکھا سکتا ہے اور چھوٹوں کو بڑا بنا کر ظاہر کر سکتا ہے لیکن جہاں تک کوششوں کا تعلق ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہم آج تک دنیا کے سامنے اعداد و شمار کی صورت میں حالات رکھتے ہیں لیکن دلوں کی کیفیت کو ان کے سامنے ظاہر کرنے کا کوئی پیمانہ نہیں۔مجھے اس مضمون پر غور کرتے ہوئے کچھ عرصے سے خیال آرہا ہے کہ وہ خطوط جو مجھے پاکستان سے موصول ہوتے ہیں جس میں بوڑھے، بچے، جوان عورتیں مرد بھی شامل ہوتے ہیں۔ان خطوط میں بعض اوقات بے ساختہ دل کی کیفیات کا اظہار ہوتا ہے ان لوگوں کی آنکھوں سے جنہوں نے ان حالات کو خود دیکھا، جو آنسو برستے ہیں بعض دفعہ ان کے خطوط کو گیلا کر دیتے ہیں اور ان کی تحریر کو مٹا دیتے ہیں لیکن وہ مٹی ہوئی تحریریں میری نظر میں زیادہ شوخ ہو جاتی ہیں ، زیادہ نمایاں ہو جاتی ہیں اور جیسا گہرا اثر وہ مٹی ہوئی بجھی ہوئی تحریریں دل پر کرتی ہیں کوئی اور خوبصورت اور نمایاں