خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 144 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 144

خطابات طاہر جلد دوم 144 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۲۲ ؍ جولائی ۱۹۸۸ء پہلے کبھی نہیں ہوا۔اٹھانوے سال میں یہ پہلا واقعہ ہے۔اس حوالے کو میں نے اس لئے چنا ہے کہ دشمن نے یہ تو اقرار کر لیا کر قتل کروانا جماعت کی فطرت میں نہیں ہے۔اٹھانوے سال میں پہلا واقعہ یہ کہتے ہیں کہ ہوا ہے اس واقعہ کی حقیقت میں آپ کو آگے بتاؤں گا کہ کیا حقیقت ہے۔پھر لولاک نے ۲ ارمئی کو ایک ادار یہ لکھ وہ لکھتے ہیں مولانا اسلم قریشی کے سلسلے میں یوم دعا منایا جائے۔اس کی شہادت کی قبولیت درجات کی بلندی ، مجرموں کی گرفتاری ، پسماندگان کے صبر جمیل اور ناموس مصطفیٰ کے تحفظ کا کام کرنے والوں کی کامیابی کیلئے دعائیں کی جائیں۔ایسی باتیں روزمرہ پاکستان کے مشہور کثرت سے چھپنے والے اخبارات میں آئے دن چھپتی رہتی تھیں لیکن یہ چند نمونے میں صرف آپ کی یاد کو تازہ کرنے کیلئے پیش کر رہا ہوں۔جن خطابات سے ان مولانا کو نوازا گیا۔ان میں عاشق رسول ایک نمایاں خطاب تھا۔چنانچہ لولاک نے ۲۰ مئی کو یہ خبر شائع کی کہ عاشق رسول ، مجاہد ختم نبوت مولانا اسلم قریشی کو اغوا کر کے شہید کر دیا گیا۔پھر محمد حنیف ندیم صاحب نے یہ اعلان چھپوایا کہ مرزا طاہر مولانا اسلم قریشی کے اصل قاتل ہیں۔مولانا زاہد الراشدی کے بقول جب تک اسلم قریشی کے قاتل مرزا طاہر اور اس کی جماعت مرزائیہ سے انتقام نہیں لیا جائے گا ہم چین اور آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔پشاور کی ختم نبوت کانفرنس میں یہ اعلان کیا گیا کہ مولانا کے قاتلوں مرزائیوں اور ان کے سرغنہ مرزا طاہر کو عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔مطالبہ کرتے ہوئے یہ عظیم الشان اجلاس اعلان کرتا ہے کہ اگر حکومت اسلم قریشی شہید کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ناکام رہی تو پھر مجلس کے قائدین کے حکم پر ہم مسلمان اسلم قریشی کے خون کا انتقام لینے کا عہد کرتے ہیں۔ملک منظور الہی صاحب نے ایک اور کھلی چٹھی صدر اور گورنر کے نام لکھی اور اخبار میں شائع کروائی۔وہ یہ تھی کہ مجاہد ختم نبوت سیالکوٹ کا اغوا اور قتل ایسا بہت بڑا کام مرزا طاہر کے حکم کے بغیر ہرگز ہر گز نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی مرزا طاہر کے حکم کے بغیر کسی مرزائی کو اتنی جرات ہو سکتی ہے کہ وہ آٹھ کروڑ مسلمانوں کے متفقہ عقیدہ ختم نبوت کے مبلغ کو دن دہاڑے اغوا اور قتل کر دے۔یہ حوالہ بھی در اصل جماعت احمدیہ کو ایک عظیم الشان خراج تحسین ہے۔نظام تو جھوٹا جیسا ہے ہی لیکن ان کو یہ پتا ہے اقرار کرتے ہیں کہ ساری دنیا میں یہ ایک جماعت ہے جو اپنے امام کے ایک اشارے پر اٹھنا اور بیٹھنا جانتی ہے اور ساری دنیا میں