خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 143
خطابات طاہر جلد دوم 143 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۲۲؍ جولائی ۱۹۸۸ء بعد تو اس وقت تک اس مہم کو چودہ ماہ گزر چکے تھے۔۲۶ اپریل کو جب آرڈینینس جاری ہوا ہے تو میں نے آنے کا فیصلہ کیا۔بعد میں لوگوں نے الزامات کے ساتھ ایسے حملے بھی کرنے شروع کئے کہ بزدل تھا، قاتل تھا بھاگ گیا اور انٹر پول کے ذریعے بلایا جائے وغیرہ وغیرہ اور جماعت کو بھی بہت طعنے دیئے اور بہت ہی دل آزاری کی باتیں کیں لیکن ظاہر بات ہے کہ جب ۱۴ ماہ تک شدید مطالبوں کے باوجود میں نے ایک ذرے کی بھی پرواہ نہیں کی اور ہرگز اس بات سے گریز نہیں کیا کہ مجھ سے پوچھا جائے اور میں اس کا جواب دوں تو ۱۴ / ماہ کے بعد وہ اچانک کونسا خطرہ پیدا ہوا تھا جو مجھے وہاں سے بھاگنا پڑا۔در حقیقت میرے وہاں سے چلے آنے کا کوئی دور کا بھی تعلق اس مولانا کی زندگی سے نہ تھانہ ہے۔جب تک وہ ظالمانہ قانون پاکستان میں جاری رہے گا جس سے خلفاء احمدیت اپنے فرائضِ منصبی ادا کرنے سے عاری رہیں گے اس وقت تک میں ہوں یا کوئی اور خلیفہ ہو اس ملک میں داخل نہیں ہوگا۔خلیفہ وقت کی ساری دنیا کی ذمہ داریاں ہیں اور وہ کسی ایک جماعت کا خلیفہ نہیں بلکہ ساری جماعت کا خلیفہ ہے اس وقت تک جماعت احمدیہ کا خلیفہ 117 ممالک کے انسانوں کا خلیفہ بن چکا ہے یعنی خدا کا خلیفہ ان کے اوپر نگران کے طور پر مقرر فرمایا گیا اس لئے کسی خلیفہ وقت کو کسی ایک ملک کے اندر محدود نہیں کیا جا سکتا اور اسی لئے کسی ایسے ملک میں کوئی جماعت احمدیہ کا خلیفہ نہیں رہ سکتا جس میں وہ کھلے بندوں اپنے فرائض منصبی ادا کرنے سے قاصر رہے اور ساری دنیا کی جماعتوں کو اس ہدایت سے محروم کر دے جن کے لئے اس کو مقررفرمایا گیا ہے۔یہ وجہ تھی جب مجھے آنا پڑا چنا نچہ میری یہ تاریخیں صاف بتاتی ہیں ۲۶ اپریل کو یہ ظالمانہ آرڈینینس نافذ ہوا ہے اور ۲۹ کی رات کو میں نے ملک چھوڑ دیا اور ۳۰ کو میں انگلستان پہنچ چکا تھا اس لئے اس واقعہ کا اس سے دُور کا بھی تعلق نہیں ہے۔اب میں آپ کو بتاتا ہوں آپ کی یاد دہانی کے لئے اسلم قریشی صاحب کی گمشدگی کے نتیجے میں کس طرح مہم آہستہ آہستہ شروع ہوئی اور پھر زور پکڑ گئی۔۱۲ مئی کے رسالہ لولاک میں منظور الہی صاحب ملک امیر مجلس تحفظ ختم نبوت اور رکن مجلس شوری پاکستان کا بنام صدر ایک کھلا چیلنج شائع ہوایا بنام صدر ایک کھلی چٹھی شائع ہوئی۔اس میں انہوں نے یہ اعلان کیا کہ ختم نبوت کے مجاہد اور جیالے مولانا اسلم قریشی مبلغ ختم نبوت سیالکوٹ نے معراجکے میں ا ر فروری کو تقریر کی اور ۷ ار فروری کو تقریر کرنے سے پہلے ہی انہیں قادیانیوں نے اغواء کر کے قتل کر دیا ہے۔ختم نبوت کے پروانوں پر ایسا ظلم