خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 61 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 61

خطابات طاہر جلد دوم 61 افتتاحی اب جلسہ سالانه ۱۹۸۵ء بھی اور تعلیم کی جہاں تک پاکستان کی رپورٹ ہے، انفرادی طور پر تو مجھے علم ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ احمدی طلباء کے بہت اچھے نتائج نکلے ہیں۔ان مصیبتوں کے باوجود کہ ہر وقت کا ایک ذہنی عذاب، مصیبت، اعصاب توڑنے والی حرکتیں یعنی علماء تھکتے ہی نہیں گالیاں دیتے ہوئے اور اخبار تھکتے ہی نہیں ان کو شائع کرتے ہوئے اور حکومت تائیدی بیان دیتے ہوئے نہیں تھکتی ، ہر روز ایک نئی مصیبت ایک نئی گالی ایک نیا گند بھائیوں کی قید ان کی مشقتیں ان حالات میں پڑھ کون سکتا ہے لیکن اللہ کا فضل دیکھیں اس وقت خزاں میں بھی وہاں بہار آئی ہے اور مجھے بہت سے طلباء نے لکھا ہے کہ انہوں نے یورنیورسٹی میں گولڈ میڈل حاصل کیا ہے، کسی نے اپنے کالج میں گولڈ میڈل حاصل کیا ہے۔جن طلباء کو مارا گیا، ان کی کتابیں چھین لی گئیں، ان کے نوٹس جلا دیئے گئے وہ بھی خدا کے فضل سے اچھے نمبروں پر کامیاب ہو گئے ہیں۔یہاں اب ایک تعلیمی منصوبہ جاری کیا جا رہا ہے یہاں جہاں آپ اس وقت بیٹھے ہوئے ہیں اور یورپ میں پہلا احمد یہ سکول اب یہاں قائم ہو گا۔انشاء اللہ تعالیٰ اب ہمیں بچوں کا انتظار ہے۔یہاں بہت ضرورت ہے کہ گندی تہذیب سے بچانے کے لئے ایک احمد یہ ماڈل سکول چلایا جائے خاص طور پر لڑکیوں کے معاملہ میں تو بہت پریشان ہیں ہمارے احمدی بھائی ، یہاں معاشرہ اتنا گندا ہو گیا ہے، اتنی بے چینی پیدا ہوگئی ہے، جنسی بے راہ روی کا یہ عالم ہے کہ پچہتر سالہ بوڑھی عورت سے بھی ریپ کرتے ہیں یہاں اور چھ سالہ ، سات سالہ بچی کو بھی ریپ کر کے جان سے بھی مار دیتے ہیں یعنی ساری قوم تو نہیں نعوذ باللہ من ذالک، لیکن قوم کا ایک حصہ بھی اگر ظلم کی اس حد تک پہنچ جائے تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ پھر احمدی ماؤں کے سکون کہاں رہیں گے۔ایک ماں نے مجھے روتے ہوئے کہا کہ میں کیا کروں میں بچی کو بھیجتی ہوں تو میں سارا دن تڑپتی رہتی ہوں، بے چین ہو جاتی ہوں کہ پتا نہیں اس پر اگلے قدم پہ کیا بن رہی ہوگی۔کہتی ہیں میں تو یہ بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ وہ بُری نظر سے دیکھے لیکن یہاں تو حالات ہی اور ہیں کچھ پتہ ہی نہیں کہ کیا جرم پیدا ہو جائے ، کیا جرم کس وقت وقوع میں آجائے؟ چنانچہ یہاں کی بڑی ضرورت تھی تو اللہ کے فضل سے یہ انشاء اللہ ہوگا اور اگر چہ شروع میں خرچ بھی کرنا پڑے جماعت کو تو انشاء اللہ کریں گے لیکن میں سمجھتا ہوں جس طرح لوگ مجھے بتا رہے ہیں امریکہ والے بھی تیار ہیں ، ناروے والے کل کہہ رہے تھے کچھ ہم اپنے دو بچے