خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 59 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 59

خطابات طاہر جلد دوم 59 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء لئے اب ان کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔قادیان کا ایک چھوٹا سا واقعہ ہے لیکن ہے بڑا پر لطف، مجھے لطف آیا تھا اس لئے میں سمجھتا ہوں آپ کو بھی آئے گا انشاء اللہ۔ایک وہاں غیر مسلم کالج ہے لڑکیوں کا مضافات میں ، وہاں کسی قصبے میں تو ان کو خیال آیا قادیان کو، کہ لجنہ کو بھی تیز کرنا چاہئے عورتوں کی تربیت کے لئے ، انہوں نے کہا آپ بھی دورے کریں چنانچہ وہاں لجنہ کی طرف سے دورہ کیا گیا اور گرلز کالج لڑکیوں کا جو ہے وہاں بھی یہ پہنچیں اور وہاں تبلیغ کا سلسلہ شروع ہوا تو وہاں کے غیر مسلم پرنسپل نے خود پھر ان سے ایک درخواست کی۔انہوں نے کہا! کہ آپ ہمیں حضرت مرزا صاحب کے کلام میں سے اقتباسات دیں، ہم وہ لکھ کر اپنے سکول میں مستقل طور پر وہاں چسپاں کریں گے اور پر گنے بٹالے والے گرو کے طور پر ان کا دن منایا کریں گے۔اللہ کی عجیب شان ہے کہیں دن منانے پر چھری پھیر نے کی کوشش کی جارہی ہے، کہیں غیر ان دنوں کو منانا اپنے لئے برکت کا باعث سمجھ رہے ہیں۔کام تو بہت زیادہ ہیں۔خلاصے کی بھی خدا توفیق دے دے تو اس کا احسان ہے، آپ کے سامنے بیان کرسکوں۔نصرت جہاں سکیم کا جو کام ہوا ہے وہ سنیے کہ چند سال پہلے ۱۹۷۰ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے بڑی دعاؤں کے ساتھ محض دولاکھ پاؤنڈ کے چندے کی تحریک کے ساتھ شروع کی تھی اور اب اس نصرت جہاں کو خدا تعالیٰ نے اپنے فضلوں کے ایسے پھل لگائے ہیں کہ 26 ہسپتال اس تحریک کے تابع کام کر رہے ہیں ، 38 ہائر سیکنڈری سکول کام کر رہے ہیں۔اس میں سے نصرت جہاں کے 24 ہیں اور تحریک جدید کے 14 ہیں اور پرائمری اور مڈل سکول کی تعداد ملا کر ایک سو تعداد ہو چکی ہے خدا کے فضل سے اور تحریک جدید کے آٹھ ہسپتال اس کے علاوہ ہیں۔اب تک 31,86,518 مریض استفادہ کر چکے ہیں اور کام میں خدا کے فضل سے روز بروز وسعت ہورہی ہے۔اللہ کے فضل سے شہرت بھی اچھی ہے اور بعض علاقوں سے تو پتہ چلا ہے کہ شدید مخالف مثلاً یوگنڈا میں ہم نے ایک نیا مشن کھولا ہے، شدید مخالف جو مخالفت کا اڈا قائم کر چکا تھا اور وقف تھا مخالفت پر اور بااثر آدمی تھا ، اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا اور اس کو جب دوسرے ہسپتال میں لے جانے لگے تو اس کے دل نے اس کو کہا اصل میں تم جانتے ہو کہ شفا تو احمدیوں کے پاس ہے اس نے مجبور کیا، اس نے کہا ہوں تو میں ان کا دشمن لیکن شفا ان کے پاس ہے مجھے وہاں لے کے جاؤ چنانچہ وہاں آیا اور