خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 57
خطابات طاہر جلد دوم 57 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۸۵ء ہندوستان سے تحریکوں کے نتیجے میں وہاں علماء فساد اور فتنہ پیدا کرنے کے لئے پہنچ رہے ہیں۔شدید گندالٹر پچر پھیلایا جارہا ہے، احمدیت کے خلاف گندے الزامات لگائے جارہے ہیں اس کے باوجود یہ ہو رہا ہے۔کہتے ہیں کہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ شدید مخالفت کے باوجود دیہات کے دیہات احمدی ہور ہے ہیں۔اس سلسلے میں جب میں ۸۳ء میں دورے پر گیا تھا تو وہاں سیلون میں حیدر آباد دکن کے امیر صاحب بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔ان سے میں نے بات پوچھی، میں نے کہا! یہ رپورٹیں ہیں آپ بتائیں مجھے، کہتے ہیں! میں تو اتنا جانتا ہوں کہ جب سے احمدیت قائم ہوئی ہے ہمارے علاقے میں اب تک جتنے احمدی اس وقت ہم موجود ہیں، اس سے زیادہ ایک سال کے اندر نئے آنے والے آچکے ہیں اور چونکہ زبان کا مسئلہ ہے اور تعلیم کی کمی کا بھی مسئلہ ہے اور کارکنان کی کمی کا بھی مسئلہ ہے اور انہوں نے کہا روپے کی کمی کا بھی مسئلہ ہے۔میں نے کہا! یہ مسئلہ میں نہیں مانتا، باقی سب مان لیتا ہوں فی الحال یہ کوئی مسئلہ نہیں۔جتنا خرچ کر سکتے ہیں، جتنا خرچ کھپا سکتے ہیں خدا تعالیٰ دے رہا ہے اور دے گا۔ہم نے تو روپے کو آگے آگے ہی بھاگتے دیکھا ہے اور کبھی ایک موقع بھی ایسا نہیں آیا کہ کام کرنا ہو اور روپے نے تنگی پیدا کی ہو تو میں نے کہا یہ الزام نعوذباللہ خدا پہ نہ لگائیں۔آپ کارکن پیدا کریں خدا کارکنوں میں بھی برکت دے گا۔چنانچہ وہ ۸۳ء میں جو باتیں ہوئی تھیں۔۸۴ء میں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک عجیب بھر پور تحریک بن گئی ہے اور جہاں تک مشرقی پنجاب کا تعلق ہے، وہ تو حیرت ہوتی ہے خدا کے فضلوں کا حال دیکھ کر ایک رپورٹ لکھنے والے لکھتے ہیں ، وہاں سے امیر صاحب قادیان بھجواتے ہیں۔نَأْتِي الْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا (الرعد: ۴۲) کا نظارہ پیدا ہو گیا ہے۔ہوا یہ کہ ۸۳ ء کے جلسے میں یا ۸۲ ء کے آخر پر جب (۸۲ء کے جلسے میں ) ان سے میں نے پوچھا کہ آپ کے ارد گرد، قادیان کے ارد گرد جماعتیں کتنی ہیں۔تو انہوں نے کہا کوئی بھی نہیں۔میں نے کہا ظلم ہے اتنی دیر سے بس رہے ہو، تمہیں خیال ہی نہیں کہ اردگر دلوگوں کا حق ہے، تمہارے ہمسائے ہیں نکلو اور تبلیغ کرو اور گورداسپور تو خاص اہمیت کا حامل ہے، تم اکیلے وہاں کیا کام کرو گے؟ تمہیں مضبوط جماعتیں ملنی چاہئیں چاروں طرف سے ، خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ شان پیدا کرو جو پہلے تھی مرکز کی۔