خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 477 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 477

خطابات طاہر جلد دوم 477 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1999ء گھنٹے کے اندر بعض اس سے بھی کم عرصہ میں ، بعض دس پندرہ منٹ کے اندر پورے ہو جایا کرتے تھے اور یہ وہ نشانات تھے جو بارش کی طرح نازل ہوتے رہتے تھے اور بظاہر چھوٹے مگر عظمت میں بہت بڑے ہوتے تھے۔چنانچہ اس کی ایک دو مثالیں میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام ہوا۔تـرى فـخـذا اليماً “ کہ تو ایک دردناک ران دیکھے گا۔اب بھلا یہ بھی کوئی الہام ہے جو کوئی شخص اپنی طرف سے بنائے کہ تو ایک دردناک ران دیکھے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو بھی الہام ہوتا تھا بڑی امانت اور حفاظت کے ساتھ اپنے ساتھیوں کو بتا دیا کرتے تھے۔کس رنگ میں اس نے پورا ہونا ہے یہ خدا پر چھوڑتے تھے اور توکل کا ایک عظیم مقام تھا کہ الہامات مخفی نہیں رکھتے تھے۔چنانچہ آپ نے حضرت شیخ حامد علی صاحب کو سنایا کہ مجھے ظہر کی نماز کے وقت یہ الہام ہوا ہے ترى فخذا اليما “ ( تذکره صفحه: ۲۷۷) کہ تو ایک درد ناک ران دیکھے گا۔یہ الہام حافظ صاحب کو سنا کر آپ نماز کے لئے زینہ سے نیچے اترے تو دو گھوڑوں پر دولڑ کے سوار دکھائی دیئے ( یعنی یہ واقعہ آئے ہوئے تھے وہاں جن کی عمر بیس برس کے اندر اندر ہوگی ) اور ایک کچھ چھوٹا اور ایک بڑا تھا۔وہ سوار ہونے کی حالت میں ہی آگے آئے اور ایک نے ان میں سے کہا یہ دوسرا میرا بھائی ہے اور اس کی ران میں سخت درد ہو رہا ہے۔تو ایک دردناک ران دیکھے گا۔دیکھیں کس حیرت انگیز صفائی سے لفظاً لفظاً یہ الہام پورا ہوا ہے اور چند منٹ کے وقت کے اندر اور پھر اس کا پورا ہونا دیکھئے۔ان لڑکوں نے کہا کہ ہم علاج کی خاطر آپ کے پاس آئے ہیں تا کہ آپ سے استفادہ کریں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس ران پر ہاتھ رکھا اور بغیر کسی دوا کے دیکھتے دیکھتے وہ ران خدا کے فضل سے ٹھیک ہوگئی۔یہ تھا اعجاز مسیحائی۔اس طرح بیمار شفا پاتے ہیں اور مردے زندہ ہوتے ہیں۔اسی تعلق میں آپ بیان فرماتے ہیں۔۱۸۹۹ء کو الہام ہوا ایک دفعہ مجھے دانت میں سخت درد ہوئی۔ایک دم قرار نہ تھا۔کسی شخص سے میں نے دریافت کیا کہ اس کا کوئی علاج ہے۔اس نے کہا علاج دنداں اخراج دنداں اور دانت نکالنے سے مرادل ڈرا۔تب اس وقت مجھے غنودگی آگئی اور میں زمین پر بیتابی کی حالت میں بیٹھا ہوا تھا اور چار پائی پاس بچھی تھی۔میں نے بے تابی کی حالت میں اس چار پائی کی پائینتی پر اپناسر رکھ دیا اور تھوڑی