خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 478
خطابات طاہر جلد دوم 478 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1999ء سی نیند آ گئی۔جب میں بیدار ہواتو درد کا نام ونشان نہ تھا اور زبان پر یہ الہام جاری تھا۔اِذَا مَرِضْتَ فَهُوَ يَشْفِی یعنی جب تو بیمار ہوتا ہے تو وہ تجھے شفا دیتا ہے۔فَالحَمدُ لِلهِ عَلى ذلِک ( تذکرہ صفحہ: ۲۸۱) اب اس کے برعکس ایک اور واقعہ بھی ضمناً بیان کرتا ہوں۔بعینہ یہی تکلیف حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کو بھی ہوئی اور بڑھتی چلی گئی۔حالانکہ آپ غیر معمولی طبیب تھے۔ایسے کہ ہندوستان میں شمال سے جنوب تک آپ کی شہرت پھیلی ہوئی تھی۔مہینہ بھر اپنا علاج کیا مگر وہ دانت در دٹھیک ہونے میں نہ آیا۔آخر وہ دانت نکلوانا پڑا۔تو ایک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام کی برکت سے کیا واقعہ ہوا، اس کا اعجاز کس شان سے ظاہر ہوا۔ایک محض طبابت کی وجہ سے باوجود اس کے کہ بہت بزرگ اور بہت اعلیٰ مقام رکھتے تھے مگر خدا نے دونوں کی شان میں فرق دکھانا تھا۔تو محض ایک دعا سے ایک دانت کو اچھا کر دیا اور ایک دانت کو نکلوانا پڑا۔اب یہ وہ زمانہ ہے جس میں یہ الہام اب پورا ہوگا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔”خدا نے مجھے خبر دی کہ تیرے ساتھ آشتی اور صلح پھیلے گی۔ایک درندہ بکری کے ساتھ صلح کرے گا اور ایک سانپ بچوں کے ساتھ کھیلے گا۔یہ خدا کا ارادہ ہے گو لوگ تعجب کی راہ سے دیکھیں۔“ ( تذکرہ صفحہ: ۲۸۵) ۱۸۹۹ء ہی کا ایک اور الہام۔مبشروں کا زوال نہیں ہوتا۔گورنر جنرل کی پیشگوئیوں کے پورا ہونے کا وقت آ گیا۔“ (تذکرہ صفحہ : ۲۸۵) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس دور کے گورنر جنرل ہیں اور آپ کی پیشگوئیاں لازماً پوری ہوں گی ایک ذرہ بھی ہمیں اس میں شک نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس رؤیا کی تعبیر کرتے ہوئے یہ فرماتے ہیں: ”ہمارا نام حکم عام بھی ہے ( یعنی حضرت رسول اللہ ﷺ نے ہمیں جو حکم قرار دیا ہے کہ عام حکم ہوگا۔سب پر حکومت کرے گا۔) جس کا اگر انگریزی ترجمہ کیا جائے تو گورنر جنرل ہوتا ہے۔“ ( تذکرہ : ۲۸۵) یعنی عام گورنر جو خدا کی طرف سے اختیارات عطا کیا گیا ہے۔بہر حال یہ تشریح تھی۔کوئی بھی تشریح کریں۔یہ الہام اللہ کے فضل سے پورا ہورہا ہے اور دن بدن پورا ہوتا چلا جائے گا۔