خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 45 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 45

خطابات طاہر جلد دوم 45 افتتاحی خ ب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء اگر وہ پوچھتے نہ تورات کے بارہ بجے بھی یاد نہیں آنا تھا کہ میں نے دو پہر کا بھی نہیں کھانا کھایا ہوا۔اس دور میں بعض نئے مخلصین دریافت ہوئے یعنی خدا تعالیٰ نے بنائے اور ہمارے سپرد کر دیئے۔وہ لوگ جن کا مشن سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا، وہ فدائی بن گئے اور ایسا کاموں کا ان کو چسکا پڑا کہ واقعہ وہ یہیں کے ہور ہے اور یہ نئے دوست ایک دو نہیں ہیں ، خدا تعالیٰ نے بہت سے انصار یہاں ایسے عطا کئے ہیں جن کو احمدیت کی چاشنی کا پہلی دفعہ احساس ہوا ہے اور پھر ایسی گی ہے کہ وہ منہ سے چُھٹ نہیں سکی۔مالی نقصانات کے متعلق میں جانتا ہوں بہت سے دوست ہیں جن کے کاروبار کو نقصان پہنچا اور بعض ترقیات رک گئیں اس وجہ سے کہ وہ زائد کام نہیں کر سکتے ، اور ٹائم ملتا تھا یعنی میں معین مثالیں آپ کو دے رہا ہوں، کوئی اندازے نہیں بتا رہا اور یہاں اوور ٹائم کے لئے تو لوگ بڑی کوشش کرتے ہیں، نہ ملنے پر بڑی تحریکیں بھی چلتی ہیں اوور ٹائم جولیا کرتے تھے پہلے، کام کرتے تھے اوور ٹائم کا ، بالکل چھوڑ دیا پر واہ ہی نہیں کی ، آنکھ اٹھا کے بھی نہیں دیکھا۔ایک صاحب ہیں مکرم ملک رشید احمد صاحب وہ ایسا کام کرتے تھے دفتر میں کہ ان کو ایک دفعہ کسی نے مذاق میں کہا کہ میاں تم تو یہاں دفتر کے چپڑاسی لگے ہوئے ہو، ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے انہوں نے کہا! تم مجھے کیا طعنہ دیتے ہو؟ خدا کی قسم میں تو خاکروب لگوں تو اس پر بھی فخر کروں۔مجھ سے ادنیٰ سے ادنی ، ذلیل سے ذلیل کام لیں، مجھے موقع تو دیں خدمت کا۔دواور نو جوانوں کا قصہ سن لیجئے۔بعض بوڑھے ہوتے ہیں ان کو بھی جب بیویاں فوت ہو جاتی ہیں، شادیوں کا بڑا شوق ہوتا ہے۔آپ کے قافلے میں بھی آئے ہوئے ہیں دو ایسے بوڑھے جوان جو علاقے میں مشہور ہیں لیکن یہاں کے نوجوانوں کا حال سنئے کہ دو نو جوان ہیں ایک کے متعلق ان کے عزیزوں نے مجھ سے شکایت کی کہ شادی نہیں کرتے کہ ہمیں قرب جو نصیب ہے آج کل اس سے محروم رہ جائیں گے یعنی پاگل ہوئے ہوئے ہیں احمدیت کی محبت میں اور فدائیت میں اور پھر خلافت سے وابستگی کا عالم یہ ہے کہ یہ مزے کہ بیٹھے ہوئے ہیں پاس دیکھ رہے ہیں، ہل رہے ہیں، کہتے ہیں ! ہم تو یہ جگہ چھوڑ ہی نہیں سکتے ، اس لئے آپ خیال چھوڑ دیں، جب تک حضرت صاحب یہاں ہیں اُس وقت تک ہم نے شادی نہیں کرنی۔دو نوجوان ایسے بھی ہیں ان کی تو خیر شادی زبر دستی کروائیں گے انشاء اللہ اور یہ ایک فائل میں سے چند باتیں سنائی ہیں یہ ساری فائلیں ہیں جو آپ کو دکھانی ہیں۔