خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 432
خطابات طاہر جلد دوم 432 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء مرگیا۔لیکن لیکھر ام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف روانہ کیا اور یہ پیشگوئی اُس نے کی اور لکھا کہ جو چاہو شائع کر دو۔میرا نام لکھو۔مباہلہ لکھو۔مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔یہ تحریر بڑی گندی ہے۔اسے آپ کے سامنے پڑھنے کی ضرورت نہیں۔لیکھرام کی طرف سے یہ تحریر ملنے پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء کو ایک اشتہار شائع فرمایا اس میں آپ فرماتے ہیں۔سو اُس کی نسبت جب توجہ کی گئی تو اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ الہام ہوا۔عِجُلٌ جَسَدٌ لَهُ خُوَارٌ۔لَهُ نَصَبٌ وَّ عَذَابٌ۔یعنی یہ صرف ایک بے جان گوسالہ ہے ( یعنی بچھڑا ہے ) جس کے اندر سے ایک مکروہ آواز نکل رہی ہے اور اُس کے لئے ان گستاخیوں اور بد زبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب مقدر ہے جو ضرور اُس کو مل رہے گا اور اس کے بعد آج جو ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء روز دوشنبہ ہے اس عذاب کا وقت معلوم کرنے کے لئے توجہ کی گئی تو خدا وند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج کی تاریخ سے جو ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء ہے چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں یعنی ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہ ﷺ کے حق میں کی ہیں عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔سواب میں اس پیشگوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الہی ہیبت رکھتا ہوتو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اُس کی روح سے میرا یہ نطق ہے اور اگر میں اس پیشگوئی میں کا ذب نکلا۔تو ہر یک سزا کے بھگتنے کے لئے میں طیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رستہ ڈال کر کسی سولی پر کھینچا جائے اور باوجود میرے اس اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی انسان کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔زیادہ اس سے