خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 411 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 411

خطابات طاہر جلد دوم 411 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1996ء تھا۔جب نیکیوں کی طرف کی پیمائش شروع ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے گز لمبے کر دیئے یعنی ایک ایک میل گویا ایک ایک گز میں ناپا جانے لگا اور باوجود دوری کے وہ شہر بالکل قریب دکھائی دیا۔یہ ایک تمثیل ہے جو آنحضرت ﷺ نے خدا تعالیٰ کی رحمت سمجھانے کی خاطر ہمیں دی ہے اور بہت ہی پیاری تمثیل ہے۔آخری نقطہ اس کا یہ ہے کہ تم سفر شروع کرو، سفر شرط ہے انجام کی فکر نہ کرو اگر اخلاص کے ساتھ تو حید کی جانب تمہارا سفر ہوگا تو جس قدم پر جان دو گے وہاں خدائے واحد و یگانہ تمہیں سنبھالنے کے لئے کھڑا ہو گا، تو خدا کی گود میں جان دو گے۔اس عظیم وعدے کے بعد پھر آپ کو کیا فکر ہے کہ کتنے بت پڑے ہیں جو ابھی ہم نے توڑنے ہیں، کتنا سفر پڑا ہے جو ہم نے اختیار کرنا ہے۔کامل خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہوئے بجز کے ساتھ اس کے حضور جھکتے ہوئے ہر احمدی کا فرض ہے کہ یہ سفر شروع کر دے۔پھر اس کی آواز میں ایک غیر معمولی طاقت پیدا ہو جائے گی، پھر خدا اسے بھی وہ اعجاز دکھائے گا جو ابراہیم کو بتایا گیا تھا کہ امت محمدیہ کے لئے یہ اعجاز مخصوص فرمایا گیا ہے کیونکہ مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب سے لوگوں کو زندگی کے لئے بلانے والا ایک ہی نبی ہے جومحمد مصطفی ﷺ ہے۔اس کے سوا کون ہے جو پہلے عالمی نبی بر پا ہوا ہو۔پس لازماً جو تمثیل میں نے آپ کے سامنے رکھی جو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو سمجھائی۔وہ تمثیل حضرت محمد مصطفی ﷺ کے زمانے میں پوری ہونی تھی اور آپ ہی کے زمانے پر صادق آنی تھی۔پس آپ ابراہیمی طیور بہنیں اور ابراہیمی طیور بنانے کے لئے خدا سے پہلے دعائیں مانگیں، تو ابراہیمی طیور بنیں گے، زندگی پائیں گے اور یہ ایک عجیب مضمون ہے کہ ہر پرندہ جو ابراہیمی پرندہ بنتا ہے وہ آگے ابراہیمی پرندہ بنانے کی صلاحیت پا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے وہ فیض حاصل کرتا ہے جس کے نتیجے میں اس کی آواز پر بھی دنیا لبیک کہتی ہے مگر یہ فَصُرْهُنَّ کا مضمون ہے جو آپ کو نہیں بھولنا چاہئے۔بنی نوع انسان کو حقیر نہ سمجھیں ، یہ دعوے نہ کریں کہ گویا آپ ہی خدا کے خاص بندے ہیں جن کو خدا نے اپنے لئے چن لیا ہے اور باقی سب دنیا حقیر اور بے حقیقت ہے۔یہ مضمون توحید سے متصادم مضمون ہے، تمام بنی نوع انسان جب آپ کے دل میں ایک مقام حاصل کر لیں ایک کی جاپالیں جبکہ مذہب وملت کی تفریق بھی اٹھتی ہوئی دکھائی