خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 377
خطبات طاہر جلد دوم 377 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۵ء خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور وہ زہد اور تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیز گاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مواخات میں دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں اور انکسار اور تواضع اور راست بازی ان میں پیدا ہو اور دینی مہمات کے لئے سرگرمی اختیار کریں۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ: ۳۶۰) دینی مہمات جو آج کل عالم میں جاری ہیں ان میں سرگرمی پیدا کرنے کے لئے جو ضروری شرائط ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرما دی ہیں۔وہ محرکات جن کے نتیجے میں وہ سرگرمی پیدا ہوتی ہے دوبارہ غور سے سنیں۔وہ کیا ہیں؟ دلوں کا بکلی آخرت کی طرف جھک جانا۔خدا تعالیٰ کا خوف دلوں میں پیدا ہونا۔زہد اور تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیز گاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مؤاخات ، ایک دوسرے سے پیار اور رشتہ موڈت میں باندھے جانا اور بڑھتے چلے جانا۔پھر فرمایا : ” دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں۔“ نمونے کی بات بارہا آپ سنتے ہیں کہ دوسروں کے لئے اچھا نمونہ بنولیکن یہ دو طرح سے کی جاتی ہے بعض دفعہ مراد یہ ہوتی ہے کہ تم ب تو ہو لیکن کم سے کم لوگوں کے سامنے اپنی بدی ظاہر نہ کرو۔دکھانے کی خاطر ، اپنے ماں باپ کے نام کی خاطر ، اپنے خاندان کی عزت کی خاطر تمہیں کچھ نہ کچھ اپنے آپ کو سنبھال کر رکھنا چاہئے تا کہ دنیا تمہارا بد نمونہ دیکھ کر تمہارے بزرگوں کو بھی بد نہ سمجھنے لگے۔ایک یہ بھی طریق ہے اور اکثر دنیا میں اسی نیت سے نصیحتیں کی جاتی ہیں کہ نیک نمونہ بنو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نیک نمونہ کو بذاتہ مقصد قرار دیا ہے۔نیکی کی باتوں کوفی الذات مقصود بتایا ہے اور فرماتے ہیں، نیکی کی باتیں اختیار کرتے چلے جاؤ یہاں تک کہ اس جوش کے ساتھ وہ تمہارے دل سے ابلنے لگیں جیسے بھرا ہوا پیالہ چھلکنے لگتا ہے۔تمہاری نیکیاں دکھانے کی خاطر باہر نہ لائی جائیں بلکہ اپنے وفور کی وجہ سے تمہارے دلوں کو، تمہارے وجود کو اس طرح بھر دیں کہ وہ چھلکنے لگیں اور دنیا ان کو دیکھنے لگے۔یہ وہی مضمون ہے جو ہر نبی کی ذات میں ہمیشہ اسی طرح صادق آتا ہے۔خدا کی خاطر وہ پاک لوگ خدا کی ذات میں کھوئے جاتے ہیں یہاں تک کہ دنیا سے بالکل بے رغبت ہو جاتے ہیں اور دنیا کی کوئی پر واہ ان کو باقی نہیں رہتی۔پھر خدا کی محبت ان کے دلوں کو ایک لافانی عشق کے ساتھ بھر دیتی