خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 351
خطابات طاہر جلد دوم 351 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء پس سنئے کہ قرآن کریم ان سب بد بخت باتوں کو کس طرح رد فرماتا ہے اور کھلا کھلا ردفرماتا ہے۔اگر اس بخاری کی حدیث کے پیچھے نہیں چلنا چاہتے تو ان آیات کو غور سے سنیں جو سورہ منافقون کی میں نے آغاز میں پڑھ کے سنائی تھیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِذَا جَاءَكَ الْمُنْفِقُونَ قَالُوْا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ ، وَاللهُ يَشْهَدُ إنَّ الْمُنْفِقِينَ لَكَذِبُونَ کہ اے محمد ! جب یہ منافق یہ دوغلے لوگ تیرے پاس آتے ہیں اور گواہی دیتے ہیں کہ یقیناً تو خدا کا رسول ہے اور اللہ جانتا ہے کہ تو خدا کا رسول ہے، پھر بھی خدا گواہی دیتا ہے کہ یہ سب بد بخت جھوٹ بول رہے ہیں، دل میں کچھ اور باتیں کرتے ہیں۔کیا اس سے بڑی پکی گواہی بھی کوئی دی جاسکتی ہے؟ خدا کا رسول تو کہتا ہے کہ میں دلوں میں نقب زنی کے لئے قائم نہیں فرمایا گیا۔مگر اللہ تو دلوں کا حال جانتا ہے، اللہ خود دلوں کے حال، ان کے اصرار پرمحمد رسول اللہ کو قرآن کریم میں مطلع فرما رہا ہے، اس کے بعد کون سا عذر باقی رہ جاتا ہے۔اللہ گواہی دیتا ہے کہ جھوٹ بول رہے ہیں، اوپر سے کچھ اور کہتے ہیں دلوں میں اور بکواس ہے۔اِتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً انہوں نے اپنے ایمان کو ڈھالیں بنایا ہوا ہے۔جب پوچھا جاتا ہے کہ دنیا میں اور بھی تو کافر ہیں ، رسول اللہ ﷺ کو کھی کھلی گالیاں دینے والے ہیں ان کے پیچھے نہیں پڑتے ،محمد رسول اللہ کے عشق کے گیت گانے والوں کے پیچھے پڑتے ہو۔تو مسلمان عوام کو سمجھاتے ہیں اس میں ایک حکمت ہے یہ منافق لوگ ہیں ، انہوں نے اپنے ایمان کو ڈھال بنایا ہوا ہے اور مسلمان ہونے کی آڑ میں مسلمانوں میں فتنہ پھیلا رہے ہیں۔یہ کوئی نئی بات نہیں ہے چودہ سو برس پہلے قرآن نے یہی بات بیان فرمائی تھی کہ اس وقت واقعہ ایسے لوگ تھے۔اب تو ان بدبختوں کی گواہیاں ہیں جو ظاہراً بھی جھوٹی اور باطنا بھی جھوٹی، اتنا جھوٹ بولنے والے لوگ ہیں کہ ان کے اردگردان کے ماحول میں وہ پولیس والے جن میں جا کے یہ احمدیوں کے خلاف جھوٹے مقدمے درج کرتے ہیں وہ سارے گواہ ہیں۔ان سے علیحدگی میں قسمیں لے کے پوچھ لو کہ یہ واقعہ جو بیان ہوا ہے سچا ہے کہ جھوٹا ہے۔وہ کہتے ہیں سراسر جھوٹا ہے لیکن ہم مجبور ہیں قانون سے، ہم اپنے گورنروں اور بادشاہوں کے حکم کے تابع ہیں۔خدا کا حکم چلتا پھرے لیکن وہ تو قیامت کے دن۔