خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 330
خطابات طاہر جلد دوم 330 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء صلى الله بہت بڑھ بڑھ کر آنحضور ﷺ کے کردار کے خلاف باتیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو محمد کا چہرہ بے داغ نہیں رہا کیونکہ اس نے بعض لوگوں کے قتل کا حکم جاری کیا۔ان دو قتل کے واقعات میں سے ایک کعب بن اشرف کا قتل ہے اور دوسرا ابورافع کا قتل ہے۔یہ وہ یہودی لیڈر تھے جو مدینہ چھوڑ کر دوسری جگہوں میں آباد ہو گئے تھے، جن کی شرارتوں اور بدعہدیوں کے نتیجے میں ان کو مدینے سے نکال دیا گیا تھا مگر نکلنے کے باوجود یہ اپنی بد عہدیوں کے اوپر قائم رہے اور جو نئے معاہدے اس اخراج کے وقت ہوئے ان کو بھی انہوں نے توڑا اور بار بار توڑا اور اسلام کے خلاف قوموں کو بھڑ کا نا یعنی عرب قوموں کو بھڑکانا اور ان کی اموال سے مدد کرنا انہوں نے اپنا پیشہ بنارکھا تھا۔وہ زمانہ آج کا زمانہ نہیں تھا جہاں کہ Established حکومتیں مستحکم حکومتیں قائم ہوں اور ایک حکومت کا دائرہ خاص طور پر ایک جغرافیائی حدود سے تعلق رکھتا ہو، ایک دوسری حکومت کا دائرہ ایک اور جغرافیائی حدود سے تعلق رکھتا ہو بلکہ عرب سب کا ایک مشترک ملک تھا۔اس ملک میں علاقائی تقسیمیں سیاسی علاقائی تقسیمیں نہیں تھیں بلکہ محض قبائلی اور خطی تقسیمیں تھیں جوحکومتوں کے درمیان کوئی خط نہیں کھینچی تھیں، کوئی Demarcation لائن قائم نہیں کیا کرتی تھیں۔پس عرب میں سب مشترکہ طور پر حقیقت میں باہمی دوستیوں کے معاہدے اور دشمنوں کے خلاف اکٹھے ہونے کے معاہدوں کی صورت میں رہا کرتے تھے۔اس لئے آج کا مستشرق جب آنحضور ﷺ کے ان دو فیصلوں کے خلاف احتجاج کرتا ہے تو اس کو اس کا کوئی حق نہیں، کیونکہ وہ آج کے حالات کو اس زمانے کے حالات پر صادق کرنے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ بالکل مختلف حالات ہیں۔اس زمانے میں اگر عہد شکنی کی جائے تو جس کی عہد شکنی کی جاتی تھی اس کو تمام اخلاقی اور رواجی حق تھا کہ وہ اس کا انتقام لے۔پس آنحضور ﷺ نے ان دونوں ظالموں کے ظلم و ستم پر بہت صبر کیا لیکن یہ اسلام کے خلاف سازشوں میں اور ان سازشوں کی مدد میں روپیہ پیسہ خرچ کرنے سے باز نہیں آئے۔تب بعض صحابہ نے جب اجازت لی تو آنحضور ﷺ نے ان کو اجازت دی۔پس ان دونوں کے قتل کو آنحضرت ﷺ کی گستاخی کے نتیجے میں قتل قرار دینا حد سے بڑھی ہوئی حماقت ہے اور دشمنان اسلام کے ہاتھوں کو مضبوط کرنے والی بات ہے۔اس بات کا قطعی ثبوت خودان واقعات کی تاریخ میں ملتا ہے۔مثلاً جب کعب بن اشرف کا