خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 311
خطابات طاہر جلد دوم 311 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۳ء بنگلہ دیش کی جماعت خدا کے فضل سے بہت ہی مخلص اور اخلاص میں دن بدن ترقی کر رہی ہے اور خوبی یہ ہے کہ وہاں کے مخالفین میں بھی تقویٰ کا بیج موجود ہے، مخالفین میں کم ہیں جو نہایت ہی حد درجہ مسموم ہو چکے ہیں ، زہر آلود ہیں ، ان کی آنکھیں بھی بند ، ان کے کان بھی بند ، ان کے دلوں پر بھی مہریں۔لیکن نسبتا میں نے دیکھا ہے بنگال کے علماء میں تقویٰ زیادہ ہے، سخت مخالفت کے باوجود جب وہ کوئی دلیل سنتے ہیں تو قائل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔اسی لئے بنگال میں خدا کے فضل سے اب بڑی تیزی کے ساتھ احمدیت کو قبول کیا جا رہا ہے اور امید ہے یہ آئندہ چند سالوں میں رفتار انشاء اللہ بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔وہاں کی مخالفت کے متعلق میں بیان کر رہا ہوں کہ ڈش انٹینا کی مخالفت میں قطعاً کسی جگہ پرواہ نہیں کی گئی۔بڑے بڑے حملے ہوئے ، بڑے بڑے گھیراؤ کئے گئے، بنگال کی جماعت کا مرد، عورت، بچہ ایک ایک ثابت قدم رہا۔انہوں نے کہا ہم جانیں دے دیں گے مگر اس رابطے کو اب نہیں ٹوٹنے دیں گے۔بعض سرداروں نے مسجد میں آکر کہا یہ ڈش اتار لیں۔صدر جماعت نے جواب دیا کہ ہم اس سے خلیفہ وقت کے خطبات سنتے ہیں، بیشک ہماری جان چلی جائے یہ ڈش نہیں اترے گی۔ساری جماعت اس موقع پر متحد ہوگئی کہ جو کچھ سر پہ گزر جائے ، ہم ڈش انٹینا کو نہیں اترنے دیں گے۔چنانچہ مخالفین نے ایک میٹنگ کی کہ سارا علاقہ اکٹھے ہوکر احمدیوں کے گھروں کی اینٹ سے اینٹ بجادے اور ان کا یہ نظام برباد کر دے۔اسی میٹنگ میں آپس میں اختلاف ہوا سر پھٹول ہوئی، ایک دوسرے پر حملے کئے گئے اور ساری قوم دو حصوں میں بٹ کر ایک دوسرے کی جان کے در پے ہوگئی اور ایک دوسرے کے خون کی دشمن ہوگئی اور اب ان کو اپنی ہی ہوش نہیں ہے، وہ جماعت کی طرف کیا توجہ دیں گے۔پس یہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک انذاری نشان ہے اور دنیا میں ہر جگہ ظاہر ہورہا ہے یہ بتانے کے لئے کہ اللہ کی تقدیر ہے جو چل رہی ہے یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے۔منیر احمد صاحب چوہدری مبلغ انچارج Eastern Region کینیڈا سے لکھتے ہیں: اوٹاوا (Ottawa) میں پاکستان سے آئے ہوئے ایک دوست سے تبلیغی رابطہ تھا، انہوں نے ( میرا ذکر کر کے کہ ) آپ کے خطبات کی ویڈیوز دیکھنی شروع کیں۔رمضان المبارک میں درس قرآن سے بہت متاثر تھے،