خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 304 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 304

خطابات طاہر جلد دوم 304 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۳ء وقت میں نے ریڈیو کی آواز بلند کر دی اور ریگستان میں خطبہ سنا۔یہ میری زندگی کا خوشگوار ترین لمحہ تھا، آپ تصور کریں کہ جس کو انسان دل و جان سے چاہے اور وہ اسے ویرانے اور سنسان ریگستان میں مل جائے تو اس کی کیا حالت ہوگی۔“ بعض دفعہ خدا تعالیٰ ایک قربانی کے لئے محض آزماتا ہے اور جب قربانی کے لئے تیار پاتا ہے تو قربانی لئے بغیر اس کا پھل دے دیتا ہے۔اس کی ایک مثال شالا مارٹاؤن لاہور کے دو بھائیوں نے اپنے تجربے کی صورت میں لکھی ہے۔وہ کہتے ہیں: ہمیں بہت شوق تھا کہ ٹیلی ویژن کا بوسٹر لگا کر اردگر دلوگوں کو بھی ٹیلی ویژن پر خطبات سنائیں اور دکھا ئیں۔“ کہتے ہیں۔” ہمارے پاس جو پیسے تھے وہ لے کر بوسٹر خریدنے کے لئے چلے تو خیال آیا کہ بانڈز بھی ساتھ لیتے جائیں، دو بانڈز ہمارے پاس تھے وہ بھی ساتھ لے جائیں شاید کچھ پیسہ کم ہوتو یہ بانڈ زلگادیں گئے۔کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور بانڈ ز بیچے بغیر بوسٹر مل گیا اور اسی بانڈ پر جو ہم بوسٹر کے لئے لگانا چاہتے تھے ، پانچ ہزار کا انعام بھی ہاتھ آیا۔“ تو یہ چھوٹے چھوٹے واقعات ہیں جن سے خدا تعالیٰ اپنے قرب اور پیار کے اظہار کرتا ہے۔دنیا کی نظر میں معمولی ہوں گے مگر احمد یوں کی نظر میں ان کی بڑی عظمت ہے کیونکہ اللہ کے پیار کے اظہار ہیں اور روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔کسی ایک ملک سے وابستہ نہیں ساری دنیا میں ہر جگہ سے خدا کے پیار کے ایسے حسین نظارے احمدیوں کے تجربے میں آتے ہیں کہ دل عش عش کر اٹھتا ہے۔یہ عالم گواہی ہے جس کا ذکر میں نے آج خطبے میں کیا تھا کہ آپ کے تقویٰ کا نشان ہے، خدا اس نشان کو ہمیشہ زندہ رکھے اور روشن تر بنا تا چلا جائے۔جہاں تک غیر مسلموں میں تبلیغ کا تعلق ہے یہ ذریعہ خدا کے فضل سے نہایت مؤثر ثابت ہورہا ہے اور تمام دنیا سے یہ خبریں مل رہی ہیں کہ روز بروز غیر مسلموں کی دلچسپی ان خطبات میں بڑھتی چلی جارہی ہے اور کئی غیر مسلموں نے ان خطبات کو دیکھ کر خود مجھ سے خطوں کے ذریعے رابطہ کیا ہے اور دعاؤں کے لئے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت کی توفیق بخشے۔اس ضمن میں ایک سکھ دوست کا