خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 237
خطابات طاہر جلد دوم 237 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء ہمیشہ ہوتی چلی جائے گی۔صرف ایک انگلستان کے سالانہ جلسے پر ہی آج ایک کروڑ روپے سے زائد خرچ کیا جا رہا ہے اور اسی طرح دنیا کے بڑے بڑے دیگر ممالک میں بھی کروڑ ہارو پے جلسہ سالانہ پر اس طرح خرچ کئے جاتے ہیں کہ خرچ کرنے والوں کو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ رقم کیسے آئی، کس طرح اکٹھی کی گئی۔از خود بہتے ہوئے دریا کی صورت میں یہ روپے پہنچ رہے ہیں مگر ان دریاؤں کے جاری کرنے والا وہی رازق خدا ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لنگر کو جاری فرمایا اور آپ سے یہ وعدہ فرمایا کہ اے دستر خوان کے ٹکڑوں پر پلنے والے انسان ! تو نے ہماری خاطر ہر مشقت برداشت کی ہم تیرے فیض کے لنگر تمام دنیا میں جاری کر دیں گے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو مالی قربانی کا نظام جاری فرمایا ہے اُس کا عام لوگوں کو اندازہ نہیں ہے کہ کس طرح بے انتہا مالی قربانی جماعت احمدیہ کی طرف سے مسلسل گل عالم میں پیش کی جارہی ہے۔گورے اور کالے اور مشرق اور مغرب میں کوئی تمیز نہیں رہی۔امیر بھی مالی قربانی میں پیش پیش ہیں اور غریب بھی مالی قربانی میں پیش پیش ہیں۔کچھ وہ رقوم ہیں جو چندوں کی صورت میں جلسہ سالانہ پر خرچ کی جاتی ہیں، کچھ وہ رقوم ہیں جو دُور دُور سے تکلیف اُٹھا کر اور بہت اخراجات کر کے جلسہ سالانہ میں شمولیت کی غرض سے لوگ صرف کرتے ہیں اور اُن کا کوئی حساب نہیں رکھا جا تا۔اس جلسہ سالانہ میں ، جس میں ہم آج اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ شرکت کی سعادت حاصل کر رہے ہیں اس کی تیاری کا خرچ بھی آپ میں سے اکثر کو معلوم نہیں اور اندازہ نہیں تقریباً ایک سال سے یہ اندازہ لگا کر کہ خدا تعالیٰ کی انگلی اب مرکز قادیان میں جلسہ منعقد کرنے کی طرف اشارے فرما رہی ہے اور خدا کی تقدیر یہ دکھا رہی ہے کہ مجھے بھی انشاء اللہ اس جلسے میں شرکت کی توفیق ملے گی۔جب میں نے حالات کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ یہاں رہائش کی جگہیں اتنی تھوڑی ہیں اور اتنی معمولی رہ گئی ہیں اور ایک لمبے عرصے سے عدم توجہ کی وجہ سے جو مکانیت ہمارے قبضے میں تھی وہ بھی ایک ایسے حال کو پہنچ چکی ہے کہ اعلیٰ معیار تو در کنار معمولی معیار کے انسان کے لئے بھی اس میں زندگی بسر کرنا مشکل ہو رہا ہے۔پس اس علم کے بعد اس تکلیف دہ احساس کے بعد، بڑی تیزی کے ساتھ قادیان میں مکانیت کی حالت بہتر بنانے کا کام شروع کیا گیا اور بعض مزید مہمان خانے تعمیر کروائے گئے۔اس تیاری پر اڑھائی کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہو چکا ہے اور اس کے علاوہ ایک لمبے عرصے