خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 214 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 214

خطابات طاہر جلد دوم 214 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۱ء ہوتے ہیں لیکن ان کی حیا کی وجہ سے ان کی حیا کا ادب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے تو تمہیں نہیں دیکھا، کچھ نہیں ہوا۔ابھی کچھ عرصہ پہلے میری ایک بیٹی کی بیٹی چھوٹی سی عمر کی ہے وہ کپڑے بدل رہی تھی تو اس کے ابا اندر آگئے تو اس نے اپنی امی سے کہا دیکھیں ! ابا نے کیا کیا ہے؟ مجھے اس حالت میں دیکھ لیا کہ ابھی میں نے کپڑے نہیں پہنے ہوئے تھے اور اس کے ابا نے یہ رنگ اختیار کیا گویا اس کو دیکھا ہی نہیں۔تو دیکھتے ہوئے بھی نہ دیکھنے کی صفت بھی ایک حیا ہے اور یہ حیا اپنے درجہ کمال میں خدا تعالیٰ کی ذات میں پائی جاتی ہے۔وہ اپنے ان بندوں کو تقویٰ کا لباس پہناتا ہے جس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ خدا کو دکھائی نہیں دیتے جو متقی ہو جائیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ ان کی شرموں کی حیا رکھنے لگ جاتا ہے اور اسی کا نام ستاری ہے۔جس کے گناہوں، جس کی کمزوریوں کی حیا خدا رکھتا ہے کوئی نہیں جو اس کے پردے چاک کر سکے اور مؤمن ان معنوں میں لِبَاسُ التَّقْوَى میں خیر اور امن کی زندگی بسر کرتا ہے۔پس سب سے پہلی چیز جوحمد باری تعالیٰ کے سفر میں آپ کو اختیار کرنی ہوگی وہ خدا کے حضور حیا کو اختیار کرنا ہے۔حیا کا احساس پیدا کریں، روزمرہ کی زندگی میں حیادار بنیں لیکن بندوں کے رشتے سے نہیں خدا کے رشتے سے۔قرآن کریم ایک جگہ انسان پر بڑی حسرت کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ دیکھو انسان سے ڈرتے ہیں کہ انسان کے سامنے میری بدی نہ آجائے لیکن خدا سے نہیں ڈرتے۔یہاں تقویٰ کے مضمون کو کھول کر بیان فرمایا گیا اور یہ حالت ایسی نہیں جو ایک دن میں درست کی جا سکے۔ساری زندگی کی محنت درکار ہے لیکن آپ کو اس سفر پر روانہ ہونا ہو گا اس طرف اور قدم اٹھانے ہوں گے۔جب آپ ایسا کریں گے تو لَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ کی پناہ میں آجائیں گے کیونکہ ہر وہ قدم جو حیا کے ساتھ شرما تا ہوا خدا کی راہ میں اٹھتا ہے وہ تسلیم اور رضا کا قدم ہے۔ہر وہ قدم خدا کے قریب تر کرتا چلا جاتا ہے، ہر وہ قدم اطاعت کے لئے آپ کو مزید آمادہ کرتا چلا جاتا ہے اور اسی سے انسان اطاعت کا جذبہ پاتا ہے ، اطاعت کی طاقت اسے نصیب ہوتی ہے۔پس مُسْلِمُونَ کا یہ مطلب نہیں کہ تم خدا تعالیٰ کی اطاعت کا حق ادا کردوان معنوں میں کہ تم نے اپنی اطاعت کو کمال تک پہنچا دیا۔إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ کا مضمون تقویٰ سے شروع ہوا اور تقویٰ کا آغاز آدم کی حیا سے ہوتا ہے۔پس ہر وہ حیا دار جو خدا سے شر ما تا ہوا، لجا تا ہوا خدا کی راہوں