خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 205 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 205

خطابات طاہر جلد دوم 205 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء یہ تماشا پولیس ہی نے دیکھنا تھا اور کس نے دیکھنا تھا؟ خدا کے فرشتے تو ایسے تماشے نہیں دیکھا کرتے اور مسجد کے لاؤڈ سپیکروں سے اب احمدیوں کی اذانیں بند اور اخبار میں سرخی کا عنوان ہے کہ مسجد کے لاؤڈ سپیکر سے گانے اور خبریں“ احمدیوں کے منہ سے اگر کلمہ شہادت نکلے، احمدیوں کے منہ سے اگر حضرت اقدس محمد مصطفی میت ہے کے لئے درود جاری ہو ، جو دل کی گہرائیوں سے اٹھ رہا ہو تو یہ سارے جرائم ہیں جو یہ قوم برداشت نہیں کر سکتی اور کسی احمدی کو اس کی اجازت نہیں ہے مگر ان کی یہ زود حسی صرف یہیں تک محدود نہیں، بعض اور بھی باتیں ایسی ہیں جن کو یہ قوم برداشت نہیں کر سکتی اور ان میں سے ایک ہے بازارحسن کی ناکہ بندی برداشت نہیں کی جاسکتی۔چنانچہ اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ بازارحسن کے میاں محمود نے کہا ہے کہ اگر اس بازار کی ناکہ بندیاں فی الفور نہ کھولی گئیں تو پھر حالات کی ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔“ یہ ہیں قوم کی حسیات اور یہ ہیں ان کی دو صورتیں، جو خود ان کے ہاتھوں سے بنائی ہوئی تاریخ ظاہر کر رہی ہے۔گویا ان کی صورتوں کے یہ نقوش خود ان کے ہاتھ لکھ رہے ہیں اور ان کے اعمال یہ نقشے بنارہے ہیں۔ماہانہ حکایت لاہور مارچ ۱۹۹۰ء کے اداریہ میں لکھتا ہے: آج ہم خلوص نیت سے اپنے اعمال پر نگاہ ڈالیں تو یہ حقیقت بے نقاب ہوگی کہ ہم بھی ان اقوام مجرمین کی صف میں کھڑے ہو گئے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے۔ہم نے ان بدیوں اور بدعتوں کو اپنے کلچر میں شامل کر لیا ہے جو قوم نوح اور قوم ھود اور قوم لوط وغیرہ نے جائز قرار دے کر اپنی 66 تہذیب و تمدن میں شامل کر رکھی تھیں۔“ آپ کو یاد ہوگا کہ اس موضوع پر میں نے بعض خطبات دیئے تھے اور قرآن کریم سے تاریخ انبیاء پیش کرتے ہوئے قوم کو متنبہ کیا تھا کہ یہ وہ رخ ہے جس کی طرف آپ کے قدم بڑھ رہے ہیں اور ایک وقت آئے گا کہ جب آپ پکار پکار کر انہی الفاظ میں المدد المدد کہیں گے، جن الفاظ میں اس سے پہلے انبیاء کے دشمنوں نے اور مجرمین نے مدد مانگی تھی لیکن ایسی قوموں کی مدد کو کوئی