خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 204 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 204

خطابات طاہر جلد دوم 204 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء احمدیوں کے گھر جلائے گئے اور اب واقعہ خود یہ بد بخت قرآن کریم کو جلا رہے ہیں اور اخباروں میں خبریں شائع ہو رہی ہیں اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی کہ ان سے بھی کوئی انتقام لیں۔حیدرآباد میں پولیس آپریشن، 57 افراد ہلاک سینکڑوں زخمی، پولیس اور ایگل (Eagle) سکواڈ جوتوں سمیت مساجد میں داخل ہوگئی۔مساجد کے میناروں پر مورچے بنائے گئے اور گولیاں برسائی گئیں۔“ وہ آپ کو یاد ہو گا گزشتہ سال جب ایک نظم پڑھی گئی تھی اس میں تھا کہ دھرتی کے نصیب اجڑتے ہیں جب ناگ اذانیں دیتے ہیں پس یہی بدبختی ہے کہ جو خدا کے عاجز بندے ہیں ان کو اذانوں سے روک دیا گیا اور ظالموں نے اذانیں دیں۔اب خدا کی تقدیر انہی مناروں سے خود ان کو آئینے دکھا رہی ہے اور بتارہی ہے کہ یہ ان کے ظلم ہیں جو خدا کی تقدیر میں کس شکل میں ظاہر ہو کر اب ہمیشہ کے لئے مرتسم ہوتے چلے جارہے ہیں۔حیدر آباد پولیس والے جئے سندھ اور سندھو دیش کے نعرے لگاتے رہے، ایسا محسوس ہوا کہ قلعہ پر حملہ ہو گیا ہے۔خواتین نے فائرنگ بند کرانے کے لئے قرآن کریم کا واسطہ دیا، جس پر پولیس والوں نے خواتین کو رائفلوں کے بٹ مار مار کر لہولہان کر دیا اور یہ کہا بلا وا اپنے رسول کو۔“ کس قدر ظلم ہے کس قدرسفا کی ہے؟ احمدیوں کو قتل کرنے کے بہانے بنانے کی خاطر آرڈینینس بنائے گئے حالانکہ یہ وہ ملک ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کی ناموس کی خاطر بنایا گیا، یہاں ناموس رسول کو بُری آنکھ سے دیکھنے والے کی سزا موت ہے اور جھوٹے مقدمے بنانے کی کوشش کی گئی اور اب اپنا یہ حال ہے کہ خدا نے ان کو، وہ آئینہ دکھایا ہے کہ کون ہے جو ناموس رسول پر حملہ کرنے والا ہے اور خدمت اسلام کے ان کے رنگ ڈھنگ دیکھیں کہ ربوہ میں جب مولویوں کا ختم نبوت کا اور موس مصطفی کے نام پر اجلاس ہوا تو واپسی پر ”حیدر“ اخبار راولپنڈی کی خبر ہے کہ ان مولویوں نے بسوں کی چھتوں پر ننگے ہو کر بھنگڑا ڈالا اور پولیس تما شاد دیکھتی رہی۔“