خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 203
خطابات طاہر جلد دوم 203 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء تبصرے شائع ہوتے رہے ہیں، ان میں سے بھی چند اقتباسات آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔روز نامہ جنگ لاہور اپنی ۱۲ ؍ دسمبر ۱۹۸۹ء کی اشاعت میں ملک بھر میں ہونے والی جرائم کی وارداتوں پر مبنی وفاقی وزارت داخلہ کی رپورٹ شائع کرتے ہوئے لکھتا ہے: ملک میں موجود دس لاکھ کلاشنکوفیں کس کس کا سینہ پھاڑیں گی؟ یکم دسمبر ۱۹۸۸ء سے ۳۰ /نومبر ۱۹۸۹ء تک ملک میں 5939 افراد قتل ہوئے ، 2326 ڈکیتیاں ہوئیں، 995 افراد کو اغواء کیا گیا اور سندھ میں 65 پولیس مقابلے ہوئے جن میں بہت سے لوگ مارے گئے۔پنجاب میں فرقہ وارانہ فسادات کے 28 اور سندھ میں 9 واقعات ہوئے۔“ ملت لکھتا ہے: ’۱۹۸۹ء پنجاب کے معاشی قتل کا سال تھا۔“ یه ۱۹۸۹ ء وہ ہے جو تمام دنیا میں احمدیت کے اور اسلام کے احیائے نو کا سال ہے، جس میں کثرت سے خدا کے فضلوں کی رحمتیں بارش کی طرح نازل ہوئی ہیں اور یہی مباہلے کا سال بھی تھا اور اسی مباہلے میں یہ دعا کی گئی تھی کہ اے خدا! اگر ہم جھوٹے ہیں تو ہم سے وہ کچھ کر جو ان لوگوں سے ہو رہا ہے جن کا واقعہ میں بیان کر رہا ہوں اور اگر ہم بچے ہیں تو تیرے فضلوں کی بارشیں ہم پر نازل ہوں اور ہمارے دشمنوں پر وہ کچھ گزر جائے جو ان پر گزر رہی ہے۔تو کتنا حیرت انگیز اور کتنا دردناک اعتراف ہے کہ ۱۹۸۹ء پنجاب کے معاشی قتل کا سال ہے۔شر پسندوں نے راولپنڈی میں مدینہ مسجد کو آگ لگادی۔“ اب کوئی ایک ظلم کا واقعہ آپ بیان نہیں کر سکتے جو خودان پر دہرایا نہیں گیا ہو۔ملتان کی ایک اور مسجد کو آگ لگادی گئی، جھنگ میں دینی مدرسہ کو آگ لگا دی گئی۔ہمیں اعلیٰ شخصیتوں کے بیٹے ہیروئن کی سمگلنگ میں بیرون ملک پکڑے گئے ، چار ریٹائر ڈ اعلیٰ افسران کروڑوں روپے بھتہ لیتے ہیں، ہیروئن کے تمیں سمگلر وی۔آئی۔پی بن گئے۔شر پسند عناصر نے قرآن پاک کے 350 نسخے شہید کر دئیے۔احمد یوں پر جھوٹے الزام لگائے گئے کہ یہ قرآن کریم کو جلا دیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں