خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 16 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 16

خطابات طاہر جلد دوم 16 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۲ء مکہ کے ہاتھوں اتنی تکالیف پہنچی ہیں۔اتنی تکالیف پہنچ رہی ہیں کہ اب تو حد ہوگئی ہے۔یا رسول الله ؟ آپ ان پر بددعا کیوں نہیں کرتے۔آپ نے جب یہ سُنا اس وقت آپ لیٹے ہوئے تھے جوش سے اُٹھ کر بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ غصہ سے تمتمانے لگا۔آپ نے فرمایا دیکھو! تم سے پہلے وہ لوگ بھی گزرے ہیں جن کا گوشت لوہے کے کانٹوں سے نوچ کر ہڈیوں تک صاف کر دیا گیا اور ایسے بھی تھے جن کے جسم آروں سے چیر دیئے گئے لیکن انہوں نے اُف نہ کی۔دیکھو! خدا اس کام کو ضرور پورا کرے گا جو کام اس نے میرے سپر د کیا ہے۔(بخاری کتاب المناقب باب مالقی النبی ) یہ تھا حضرت محمد مصطفی امیہ کا رد عمل۔یہی تربیت تھی جو آپ نے اپنے غلاموں کو دی اور یہی رد عمل تھا جو حضرت محمد مصطفی اللہ کے غلاموں سے ظاہر ہوتا رہا۔چنانچہ حضرت خبیب بن عدی کے متعلق حدیثوں میں آتا ہے کہ وہ جب جان دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور تلوار اُن پر گر کران کا سرتن سے جدا کرنے کو تھی تو کوئی گھبراہٹ نہیں تھی کوئی واویلا نہیں تھا ہاں دو شعر ان کی زبان پر جاری ہوئے اور ہمیشہ کے لئے ان کی یاد کو بھی زندہ جاوید کر گئے۔انہوں نے قتل ہونے سے پہلے یہ شعر پڑھے۔مَابَالَى حِينَ أَقْتَلُ مُسْلِمًا عَلى أَيِّ شِقٍ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِى وَ ذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِ لَهِ وَ اِنْ يَّشَا يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شَلْوِ مُمَزَّعٍ ( بخاری کتاب الجہا دالسید حدیث نمبر : ۲۸۱۸) کہ اے کفار ! میں تو اس بات کی بھی پرواہ نہیں کرتا کہ میں جب قتل کیا جاؤں گا تو کس پہلو پر گروں گا۔یعنی میری موت چونکہ خدا کی خاطر ہے اس لئے مجھے تو اتنی بھی پرواہ نہیں ہے کہ جب میرا سرتن سے جُدا ہوگا تو میں کس کروٹ پر کروں گا۔خدا کی قسم یہ سب کچھ خدا کی خاطر ہو رہا ہے اور اگر وہ چاہے تو میرے جسم کے ذرہ ذرہ کو برکتوں سے بھر دے۔یہ تھا حضرت محمد مصطفی امیہ کے غلاموں کا رد عمل اور یہی ان کو تعلیم دی گئی تھی۔پس آج آغاز اسلام کی باتیں کرتے ہوئے ہمیں درود بھیجنا چاہئے اس محسن اعظم پر جس