خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 182
خطابات طاہر جلد دوم 182 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء صحابی ہیں۔ان کی بینائی زائل ہو چکی ہے، کمر جھک گئی ہے اور دوقدم بھی بغیر سہارے کے چلنا مشکل ہے۔وہ اتنی لمبی ہزار ہا میل کی مسافت طے کر کے یہاں پہنچے ہیں آخر کیوں؟ پھر ایسی خواتین بھی ہیں جنہوں نے ساتھ کے گاؤں بھی نہیں دیکھے ہوئے اور انہیں دنیا کی کوئی خبر نہ تھی اور انہیں دنیا دیکھنے کا شوق بھی کبھی پیدا نہیں ہوا کیونکہ بعض لوگ ایسی حالت میں زندگی بسر کرتے ہیں دُنیا سے کٹ کر اور علیحدہ رہ کر کہ ان کو یہ علم ہی نہیں کہ دنیا ہوتی کیا ہے اور اس لاعلمی کی وجہ سے شوق بھی پیدا نہیں ہوتے لیکن وہ بھی بڑی دُور دُور کی مسافت طے کر کے یہاں پہنچی ہیں۔ان میں سے ایک معمر خاتون کا ذکر کل میری اہلیہ نے مجھ سے کیا اور بتایا کہ ان سے جب پوچھا گیا کہ آپ تو بڑی معمر ہیں اور بظاہر عدم تعلیم یافتہ ہیں ، آپ کو کیسے خیال آیا کہ اتنی تکلیف اٹھا کر یہاں پہنچیں؟ انہوں نے اس بات کا جواب تو نہیں دیا لیکن ایک اور خیال جس کی وجہ سے وہ محفوظ ہورہی تھیں اس کا ذکر کر دیا۔انہوں نے کہا پنجابی زبان میں کہ پاکستان کے مولویوں نے تو ہم سے وہ سلوک کیا کہ جس سلوک کے نتیجے میں وہ سمجھتے تھے کہ ہمیں دھتکار کر انہوں نے ہلاک کر دیا ہے مگر ہمارے ساتھ تو وہی معاملہ ہوا جو پنجابی میں کہتے ہیں کہ گئے نوں کسی نے لت ماری اُس کا گب سیدھا ہو گیا۔ٹانگ مارنے والے نے لات مارنے والے نے تو دشمنی سے کہتے کو لات ماری اور اس خیال سے کہ یہ اپنا دفاع نہیں کر سکتا لیکن خدا کی قدرت کا ایسا کرنا تھا کہ اس ٹانگ کے نتیجے میں اس کا گب سیدھا ہو گیا۔وہ پتا نہیں کس مزے سے یہ بات سوچ رہی تھیں؟ ہو سکتا ہے ان کے ذہن میں یہ بات ہو کہ ہم لوگوں کے کہاں یہ مقدر تھے کہ ایسے عظیم تاریخی جلسوں میں دُور دُور کے سفر کر کے پہنچیں گے۔ہوسکتا ہے وہ یہ سوچ رہی ہوں کہ ان واقعات سے پہلے ہم میں بہت سی خرابیاں اور کمزوریاں تھیں جوں جوں ابتلاء کی چکی میں ڈالے گئے، جوں جوں دکھوں کی آزمائش میں مبتلا کئے گئے ہم سدھر کے، نکھر کے اس سے نکلتے رہے اور ہماری کمزوریاں دور ہوتی چلی گئیں اور ہوسکتا ہے کہ اس کے علاوہ وہ یہ بھی سوچ رہی ہوں کہ انگلستان آ کر انہوں نے تمام دنیا سے لوگوں کو اکٹھا ہوتے ہوئے دیکھا اور احمدیت کی ایک عجیب شان کا ملاحظہ کیا اور انہوں نے سوچا کہ دیکھو ان چند سالوں کے عرصے میں احمدیت کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔تو جو بھی گب کا تصور ان کے ذہن میں تھا انہوں نے ہر گب کو سیدھا ہوتے ہوئے بھی دیکھا اور یقیناً ان کی یہ گواہی سچی گواہی ہے کہ علماء کی ایذارسانی سے پہلے جو