خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 174 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 174

خطابات طاہر جلد دوم 174 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۹ء یہ پیر تسمہ پا کی کہانی شاید آپ میں سے بہتوں نے سنی ہو اور بعضوں نے نہ بھی سنی ہو اس لئے میں اس کہانی کو دوہراتا ہوں کیونکہ یہ بعینہ پاکستان کے حالات پر صادق آرہی ہے۔کہتے ہیں ایک جزیرے میں ایک سند باد جہازی تھا یا جو بھی تھا اس کا جہاز تباہ ہوا ،ٹوٹ گیا تو وہ ایک جزیرے میں اتر گیا اور اس جزیرے میں بہت سے پھل دار درخت تھے اور بہت ہی امن کی جگہ تھی وہ پھل کھا رہا تھا کہ اتنے میں اس کو ایک آواز سنائی دی۔ایک بوڑھے کی کہ میرا بھی تو کچھ خیال کرو۔دیکھو میری ٹانگیں مفلوج ہیں میں اپنی ٹانگوں کے بل کھڑا نہیں ہو سکتا اپنی آنکھوں کے سامنے پھلوں سے لدے درختوں کو دیکھتا ہوں بھوک سے تلملاتا ہوں لیکن میرے مقدر میں تازہ پھل نہیں۔ہاں جو درخت سے گر جاتے ہیں جانوروں کے کھائے گندے، بچے ہوئے پھل وہ کھانے پڑتے ہیں۔تم مجھ پر رحم کرو اور مجھے اپنے کندھوں پر چڑھالو۔اس بیچارے کو رحم آ گیا اس نے اسے اپنے کندھوں پر سوار کر لیا۔وہ مفلوج ٹانگیں جور بڑ کی طرح تھیں وہ جس طرح سانپ اپنے جسم کو کتا ہے۔بعض جانوروں کے اردگرد اپنے بل کو تنگ کرتا چلا جاتا ہے اسی طرح اس بوڑھے نے اپنی ٹانگوں کو اس کی گردن کے ارد گرد لپیٹا اور اس کا حلقہ تنگ کرتا چلا گیا۔یہاں تک کہ اس کیلئے اس سے نجات ممکن نہ رہی۔تب اس نے کہا کہ میں تو خوش ہوں کہ خدا تعالیٰ نے ( اس نے خداتعالی کا لفظ کہایا نہیں کہانی یہ کہتی ہے کہ) مجھےاور دو ٹانگیں دے دی ہیں اب تم میری ٹانگیں ہو اور تمام عمر میں تمہاری گردن پر سوار ہوں گا اور تمہاری ٹانگیں میری ٹانگوں کا کام دیں گی۔یہ کہانی ہے لیکن اس میں بڑا گہر اسبق ہے بعض لوگوں کی ٹانگیں اس لئے ماری جاتی ہیں کہ وہ اس لائق نہیں ہوا کرتے کہ دنیا کو اپنے مفاسد سے تباہ کریں، اپنے نفوس کے مفاسد سے تباہ کریں۔اسی لئے ملاں جب بگڑ گیا تو خدا تعالیٰ نے اس کو قعر مذلت میں گرایا اور یہ ہمارے ملکوں میں کمین کے طور پر ظاہر ہوا۔جن ملکوں میں ملاں نے اپنے نفس کی عزت کو قائم رکھا اسلام سے وفا کی وہاں یہ بہت معزز حیثیت رکھتا ہے اور میں ان کی بات نہیں کر رہا لیکن بدقسمتی سے پنجاب میں خصوصیت کے ساتھ اور ہندوستان کے بہت سے علاقوں میں ملاں ایک ایسی ذلیل ہستی کے طور پر ابھرا ہے اس کو دیکھ کر حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کی وہ حدیث یاد آ جاتی ہے کہ علماء هم شر من صلى الله تحت عديم السماء ( مشکوۃ کتاب العلم والفضل : ۳۸) ان لوگوں کے علماء آسمان کے نیچے بدترین قوم ہوں گے اس لئے ان کی ٹانگیں کوئی نہیں تھیں ان کو قوم پوچھتی نہیں تھی۔رفتہ رفتہ آنحضرت ﷺ کے