خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 167
خطابات طاہر جلد دوم 167 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۹ء پہلے تو بڑی کھلی جرات کے ساتھ حیا کے بغیر کسی شرم کے بغیر کھل کر یہ کہ دیا جا تا تھا اورتحریر دے دی جاتی تھی کہ تم احمدی ہو اس لئے ہم تمہیں ملازمت سے فارغ کرتے ہیں۔بعض دفعہ ملی ہوئی ترقی واپس لے لی گئی چنانچہ ایک دوست لاہور سے لکھتے ہیں کہ منیر احمد سنوری ان کے ماموں کے چیف انجینئر بننے کے آرڈر آچکے تھے لیکن وہاں آفس والوں نے شور مچایا کہ قادیانی کو چیف انجینئر نہیں بننے دینا۔اس کے نتیجے میں اس ترقی کے جاری شدہ آرڈر کینسل کر دیئے گئے۔اسی طرح اور بہت سی مثالیں ہیں لیکن چند ایک کافی ہوں گی۔ربوہ کے ایک نوجوان لکھتے ہیں کہ آج ۲۳ / مارچ کا دن ہے اور تمام احباب جماعت اس دن علی الاعلان خوشیاں منارہے ہیں اور ہم ہیں کہ ہم پر پابندیوں کا دائرہ مزید تنگ کر دیا گیا ہے، ربوہ کی فضا میں ایک عجیب اداسی چھا گئی ہے۔آج جب نماز فجر کے بعد دعا اور تقسیم مٹھائی سے فارغ ہو کر البیت سے باہر نکلے تو یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ شاہین فورس کے مجاہدین ہاتھوں میں لاٹھیاں ، راکفل اور آنسو گیس اور نا معلوم کیا کیا لئے اور اسلحہ سے لیس ہو کر مختلف مقامات پر کھڑے گویا کسی بڑے جلوس کو قابو کر نے کیلئے تیار تھے۔جہاں دکھ ہورہا تھا وہاں ہنسی بھی تو آئی کہ بیچارے نادان کیسے گھوم رہے ہیں اور ہماری خوشیوں پر پہرا دے رہے ہیں۔امیر صاحب جماعت احمد یہ مردان ایک شہید ہوئی مسجد کو جب دیکھتے ہیں تو ان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔وہ لکھتے ہیں ہماری مسجد شہید ہو چکی ہے اور ویران پڑی ہے جس میں ان ظالموں نے مختلف قسم کا گند پھینک رکھا ہے مسجد کا کیس عدالت میں دائر ہے اور حکومت کی طرف سے دفعہ 145 کا مقدمہ بھی درج ہے اور یہاں کی انتظامیہ خصوصی طور سے یہ نہیں چاہتی کہ ہم اپنی مسجد کے قریب بھی جائیں۔میری دلی خواہش اور تمنا ہے کہ ہم لوگ وہاں جا کر مسجد کو صاف کریں اور پھر میں وہاں جا کر سجدہ کروں جہاں ہمارے بزرگوں نے خدا کے حضور سجدے کئے ہیں۔ایک چار سالہ احمدی بچی قرۃ العین جو ننکانہ صاحب میں رہتی تھی اس نے اپنی آنٹی ( یہ لفظ آنٹی لکھا ہوا ہے ) ممانی یا پھوپھی یا خالہ جو بھی ہیں ان سے خط لکھوا کر بھجوایا ہے لکھنے والی نے کہا ہے کہ جو کچھ اس بچی نے مجھے لکھوایا میں نے اسی طرح امانت کے طور پر لکھ دیا ہے وہ کھتی ہے ۱۲ ر اپریل کو صبح 11 بجے ربوہ سے نکا نے پہنچے تو کیا دیکھا کہ ہمارے گھر کو اور سامان کو آگ لگی ہوئی تھی اور میں ڈرگئی