خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 142
خطابات طاہر جلد دوم 142 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۲۲ / جولائی ۱۹۸۸ء تعالیٰ نے بچالیا اور بالکل وہ چھرا گر دے کے نزدیک سے خراشتا ہوا گزر گیا اور فوری طور پر طبی امداد بھی میسر آگئی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب خدا نے ان کو نئی زندگی عطا کی ہے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ وہ شخص ہے جو اسلام آباد میں کسی زمانے میں ایئر کنڈیشنر زکامکینک ہوا کرتا تھا اور یہ وہی دن ہے جب اس نے حملہ کیا ہے۔اس کے بعد یہ نظر سے غائب ہو گیا ہمیں تو کوئی اس کا علم نہیں تھا کہ کہاں گیا اور اس کے ساتھ کیا ہوالیکن بعد ازاں اتنا ضرور معلوم ہوا کہ اس قاتلانہ حملے کے نتیجے میں یہ صاحب اچانک مولانا بن گئے اور مولانا بھی اس پائے کے تحفظ ختم نبوۃ کی مجلس میں اور مجلس احرار میں ان کو بے بدل عاشق رسول کے خطاب دیئے وہ اچانک ایک چاقو کے حملے سے کیسے وہ علم پا گئے اس کا را از تو کسی کو معلوم نہیں لیکن جب مجھ سے بعض دوست ملتے تھے اور ان کی بات آتی تھی تو میں ان سے کہا کرتا تھا کہ اتنے مدارس کا خرچ کیوں برداشت کر رہے ہو چاقو چلانے کی ٹریننگ دو تو علماء پیدا ہونا شروع ہو جائیں گے۔غرضیکہ یہ وہ صاحب ہیں جو اس طرح آنا فانا ایک قتل کی کوشش میں مولا نابن گئے اور پھر جیسا کہ میں نے بیان کیا کہ مجھے تو کوئی علم نہیں تھا گئے کہاں اور رہتے کہاں تھے؟ لیکن ۲۰ فروری یا ۲۲ / فروری کا دن تھا جب میں واپس آیا ہوں کراچی کے سفر سے اس وقت مجھے پتا لگا۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ با قاعدہ اخبارات میں بھی مہم شروع ہوئی جو دن بدن تیز سے تیز تر ہوتی چلی گئی اور ہر روز شاید ہی کوئی ناغہ ہو کہ یہ مطالبہ اخبارات میں شدت سے نہ آیا ہو کہ مرزا طاہر احمد امام جماعت احمد یہ مولانا اسلم قریشی کا قاتل ہے اس نے اسے اغواء کیا ، اسے قتل کیا اور قوم اس خون کا بدلہ مانگتی ہے اور قوم مطالبہ کرتی ہے کہ اسے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔چنانچہ مسلسل یہ خبریں آتی رہیں اور اس تحریک میں ایک Momentum ایک نئی قوت پیدا ہوتی چلی گئی۔یہاں تک کہ پھر معصوم احمدیوں کے گھروں پر حملے ہوئے گلیوں اور سڑکوں پر مولویوں نے اشتعال دلا دلا کر لوگوں کو گھروں سے نکالا ، احمدی عبادت گاہوں پر حملے شروع ہوئے اور ایک پوری مہم جاری ہوئی اسلم قریشی کے نام پر اور بڑی بڑی دعاؤں کی تحریکیں ہوئیں یہاں تک کہ ایک ایسا وقت بھی آیا کہ واضح طور پر حکومت اس تحریک میں ملوث معلوم ہونے لگی۔یہ ایک لمبی داستان ہے جو کئی سال پر پھیلی ہوئی ہے لیکن ایک بات تو میں آپ کو یہ بتانی چاہتا ہوں کہ جب میں نے پاکستان سے آنے کا فیصلہ کیا۔یعنی ۲۶ / اپریل ۱۹۸۴ء کے آرڈینینس کے