خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 109
خطابات طاہر جلد دوم 109 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۶ء تھا قید میں ڈالے گئے۔احمدیت کو دنیا میں ہر جگہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان مصائب کے باوجود بنی نوع انسان کی عمومی خدمت کی بھی بکثرت توفیق مل رہی ہے۔اس کی تفاصیل کا تو یہ وقت نہیں، انشاء اللہ کل کی دوسری تقریر میں میں جماعت احمدیہ کی عالمی جدو جہد اور کوششوں اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے بے شمار نازل ہونے والے فضلوں کا ذکر کروں گا۔اس وقت صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حکومت پاکستان کے یہ سارے پرو پیگنڈے خدا کی تقدیر نے ناکام بنا دیئے ہیں۔چنانچہ سیرالیون کے صدر نے قرآن کریم اور احمد یہ لٹریچر کے تھنے کو چومتے ہوئے بڑے ادب اور احترام سے قبول کیا اور فرمایا۔" احمد یہ مشن طبی اور تعلیمی میدان میں ملک کی بڑی خدمت کر رہا 66 ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ آپ اسی طرح ملک کی خدمت کرتے رہیں۔اسی طرح ہمارے وکیل اعلیٰ تحریک جدید چوہدری حمید اللہ صاحب جب دورے پر لائبیریا تشریف لے گئے تو لائبیرین نیوز نے ایک آرٹیکل اس پر لکھا اور یہ خبر دی کہ انفارمیشن منسٹر سے انہوں نے ملاقات کی ہے اور انفارمیشن منسٹر کا یہ بیان شائع کیا کہ احمد یہ مشن نے اپنی ابتداء ہی سے حقیقی بھائی چارے کی فضا پیدا کرنے میں مدد کی ہے۔کہاں یہ پروپیگنڈا کہ افریقہ کو مخاطب کرتے ہوئے حکومت پاکستان نے جو So called مبینہ قرطاس ابیض شائع کیا تھا اُس میں یہ لکھا کہ افریقہ کو ہم متنبہ کرتے ہیں کہ جماعت احمد یہ جہاں جاتی ہے فساد برپا کرتی ہے اس لئے ہم آپ کو متنبہ کرتے ہیں کہ اگر آپ نے اس کو رد نہ کیا اور بر وقت پیش بندی نہ کی تو آپ کے ملک میں بھی فساد برپا کریں گے۔وہاں کی حکومتوں کے سر براہ اس سے بالکل برعکس رائے رکھتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اپنی ابتداء ہی سے جماعت احمدیہ نے حقیقی بھائی چارے کی فضا پیدا کرنے میں مدد کی ہے نیز مشن کی مساعی کے نتیجے میں بہت سے لائبیرین کے معیار زندگی میں نمایاں ترقی پیدا ہوئی“۔بہر حال میں آپ کو یہ اطمینان دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس ظالمانہ مہم سے جہاں تک بیرونی دنیا کا تعلق ہے وہاں بھی نہایت ہی خوشگوار نتائج پیدا ہور ہے ہیں اور جہاں تک