خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 108 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 108

خطابات طاہر جلد دوم 108 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۶ء نیز یہ کہ جدید تقاضوں کے مطابق اس پر سو فیصدی عمل کی گنجائش موجود ہے۔دور جدید کے انسان کو یہ فقرہ سننے کے لائق ہے۔فرماتے ہیں۔دور جدید کے انسان کو یہ سبق احمد یہ جماعت سے حاصل کرنا چاہئے۔وو پھر انہوں نے فرمایا کہ ” میری حکومت ان خدمات کا بے حد احترام کرتی ہے اور ممنون احسان ہے اور وعدہ کرتی ہے جس حد تک بھی ممکن ہوا وہ جماعت احمدیہ کے ساتھ تعاون کرے گی۔اسی طرح وہاں Eastern Region کے ایک نامور عیسائی پادری جب ہماری کانفرنس میں شرکت کے لئے تشریف لائے تو انہوں نے اسلام کو پہلی بار اُس طرح سنا، جس طرح جماعت احمد یہ اسے دیکھتی اور جس طرح جماعت احمد یہ اس پر عاشق ہے۔اسلام کے اُس حسین چہرے کو انہوں نے دیکھا تو اپنی تقریر میں انہوں نے کہا اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم عیسائیوں نے محمد اللہ جسے عظیم نبی کا انکار کر کے بہت ظلم کیا ہے“۔عجیب ظلم ہے کہ باہر تو جماعت احمد یہ غیروں کے منہ سے یہ کہلوا رہی ہے کہ اس عظیم نبی یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا انکار ایک عظیم ظلم ہے اور پاکستان کی حکومت آنحضرت ﷺ کی صداقت کے اقرار کو ایک عظیم ظلم قرار دے رہی ہے اور سینکڑوں احمدی پاکستان کی حکومت کے ہاتھوں شدید ظلموں کا نشانہ بنائے گئے صرف اس لئے کہ انہوں نے کلمہ توحید کا انکار کرنے سے انکار کر دیا اور اس کے اقرار پر قائم رہے، شدید دکھ اٹھائے ، ماریں کھائیں، گلیوں میں گھسیٹے گئے ، ذلیل ہوئے ، قید و بند میں ڈالے گئے لیکن ایک لمحہ کے لئے بھی وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ دنیا کے اس عظیم ترین نبی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی صداقت کا انکار کریں اور آج ایک ہی واحد ملک ہے جس ملک میں یہ اقرار جرم بن چکا ہے اور تعزیر پاکستان کے تابع ایک ایسا جرم ہے جس کے نتیجہ میں اگر مجرم پکڑا جائے تو اس کی ضمانت بھی قبول نہیں ہونی چاہئے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا سینکڑوں آدمی صرف اس جرم میں کہ انہوں نے لا اله الا الله محمد رسول اللہ کا برسر عام اقرار کیا