خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 107
خطابات طاہر جلد دوم 107 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۶ء پرو پیگنڈا تمہارے خلاف کیا جا رہا ہے اور پوچھا کہ اس کا جواب کیا ہے تا کہ ہم تمہارا پیش کردہ جواب معلوم کرنے کے بعد مطمئن ہو کے پھر ان کو جواب دیں۔چنانچہ ایک سے زیادہ ممالک میں بلکہ بیسیوں ممالک میں ایسا ہوا کہ جماعت احمدیہ سے مدد مانگ کر اُن کی ایک ایک چیز کا جواب لے کر اپنی حکومت کی طرف سے انہوں نے پاکستان کی حکومت کو یہ جواب پیش کیا کہ ہم مطمئن ہیں، یہ تمہارے الزام غلط ہیں اور جماعت احمدیہ کی یہ حیثیت ہے۔افریقہ میں جہاں بہت زیادہ زور مارا گیا وہاں کے چند نمونے میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔گھانا کی تعمیرات کے وزیر الحاج ڈاکٹر ابوبکر احسن نے جلسہ سالانہ سالٹ پانڈ (Saltpond) میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا۔جماعت احمدیہ ایسی تنظیم ہے جس نے اسلام کی نہایت اعلیٰ تصویر ہمارے سامنے پیش کی ہے، بالخصوص عملی طور پر ہسپتال ، سکول اور زراعتی اداروں کے قیام کے ساتھ مقامی حکومت کی مدد کی ہے اور یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ واقعی اسلام ترقی کرنے والا مذہب ہے۔جو اس غلط الزام کی تردید میں عملی جواب ہے کہ اسلام نعوذ باللہ ایک پسماندہ اور Backward مذ ہب ہے“۔پس جہاں پاکستان کی موجودہ آمرانہ حکومت تمام دنیا میں اسلام کو ایک پسماندہ اور Backward مذہب مشہور کرنے کی نہایت ناپاک کوشش کر رہی ہے اور آنحضرت ﷺ سے اسلام کو شروع کرنے کے بجائے قرون وسطی کے اُس دور کا اسلام دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہے جہاں اسلام اور جبر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ کر دیئے گئے تھے۔جہاں اسلام کو اس طرح پیش کیا جارہا تھا کہ ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں قرآن ہے، اُس دور سے اسلام کا تصور لے کر آج کی حکومت اس بیسویں صدی میں یا اکیسویں صدی آنے والی ہے اب تو ، اس دور میں دنیا کے سامنے اسلام کی یہ بھیانک تصویر کھینچ رہی ہے اور جن لوگوں کے سامنے جماعت احمدیہ کے خلاف یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ یہ اسلام کو برے رنگ میں پیش کرتے ہیں، اُن کے متعلق ان حکومتوں کے بڑے بڑے صاحب اثر اور با اختیار لوگ یہ اعلان کر رہے ہیں کہ اس غلط الزام کی تردید جماعت احمدیہ کر رہی ہے کہ اسلام نعوذ باللہ ایک پسماندہ اور Backward مذ ہب ہے ، وہ فرماتے ہیں۔